آقاؤں کے آقا سے بندوں کو ہو کیا نسبت
احمق ہے جو کہتا ہے آقا کو بڑا بھائی
سینہ میں جو آجاؤ آئے مرے دل کی
سینہ تو مدینہ ہو اس کا ہو شیدائی
دل تو ہو خدا کا گھر سینہ ہو ترا مسکن
پھر کعبہ و طیبہ کی پہلو میں ہو یک جائی
اس۱ طرح سما جاؤں میں گم تجھ میں
پھر تو ہی تماشا ہو اور تو ہی تماشائی
اس سالکؔ بیکس کی تم آبرو رکھ لینا
محشر میں نہ ہو جائے آقا کہیں رسوائی