چل اُٹھ جہہ فرسا ہو ساقی کے در پر
درِ جود اے میرے مستانے والے
ترا کھائیں تیرے غلاموں سے الجھیں
ہیں مُنکر عجب کھانے غُرانے والے
رہے گا یوں ہی اُن کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے
اب آئی شفاعت کی ساعت اب آئی
ذرا چین لے میرے گھبرانے والے
رضا نفسِ دشمن ہے دَم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چندرانے والے