حالِ عاصی کا بے حد بُرا ہے تیری رحمت کا بس آسرا ہے
عفوِ جُرم و قُصور و خطا کی میرے مولٰی تو خیرات دیدے
میں گناہوں میں لتھڑا ہوا ہوں بد سے بدتر ہوں بگڑا ہوا ہوں
عفوِ جُرم و قُصور و خطا کی میرے مولٰی تو خیرات دیدے
ہے یہ تسلیم سب سے بُرا ہوں میں سُدھرنا خدا چاہتا ہوں
عفوِ جُرم و قُصور و خطا کی میرے مولٰی تو خیرات دیدے
ہو کرم از طفیلِ مدینہ میں نہ ہرگز پھروں کر کے توبہ
عفوِ جُرم و قُصور و خطا کی میرے مولٰی تو خیرات دیدے
بات عِصیاں سے میں نے بگاڑی دل کی ہاتھوں سے بستی اجاڑی
لُطف و رحمت کی عفو و عطا کی میرے مولٰی تو خیرات دیدے
تیرے ڈر سے سدا تھرتھراؤں خوف سے تیرے آنسو بہاؤں
کیف ایسا دے، ایسی ادا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
مکرِ شیطان سے تو بچانا ساتھ ایماں کے مجھ کو اٹھانا
نَزع میں دیدِ بدر الدُجیٰ کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
پھر عرب کی حسیں وادیاں ہوں کاش! مکے کی شادابیاں ہوں
مجھ کو دیدارِ ثور و حرا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
دیدے پردہ بہو بیٹیوں کو ماؤں بہنوں سبھی عورتوں کو
ہم سبھی کو حقیقی حیا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
اب تک اولاد سے جو ہیں محروم اُن کی بھر گود اے ربِّ قیوم
سب کو رحمت کی اپنی عطا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
جگمگاتی رہے قبرِ عطار اے رحیم اور ستار و غفار
تا ابد فضل و رحم و عطا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے