Home/Imam Ahmad Raza Khan Qadri/Hazri Dargah-e-Abdi Panah-e-Wasl-e-Dom Rang-e-Ishqi

Hazri Dargah-e-Abdi Panah-e-Wasl-e-Dom Rang-e-Ishqi

Written by Imam Ahmad Raza Khan Qadri

100%
بِھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چھپتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ امل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کے سونپا خدا کو یہ عظمت کس سفر کی ہے ہم گردِ کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وہ ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے کالک جبیں کی سجدہ در سے چھڑاؤ گے مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنا حجر کی ہے ڈوبا ہوا ہے شوق میں زمزم اور آنکھ سے چھالے برس رہے ہیں یہ حسرت کدھر کی ہے برسا کے جانے والوں پہ گوہر کروں نثار ابرِ کرم سے عرض یہ میزابِ زر کی ہے آغوشِ شوق کھولے ہے جن کے لئے حطیم وہ پھر کے دیکھتے نہیں یہ ڈھن کدھر کی ہے ہاں ہاں رہِ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے واروں قدم قدم پہ کہ ہر دم ہے جانِ نو یہ راہِ فزا مرے مولیٰ کے در کی ہے گھڑیاں گنی ہیں برسوں کہ یہ سُب گھڑی پھری مرمر کے پھر یہ سل مرے سینے سے سر کی ہے اَللّٰہُ اَکْبَر! اپنے قدم اور یہ خاکِ پاک حسرتِ ملائکہ کو جہاں وضعِ سر کی ہے معراج کا سماں ہے کہاں پہنچے زائرو! کرسی سے اونچی کرسی اسی پاک گھر کی ہے عشاق روضے سجدہ میں سوئے حرم جھکے اَللّٰہ جانتا ہے کہ نیت کدھر کی ہے یہ گھر ہے یہ اس کا جو گھر در سے پاک ہے مژدہ ہو بے گھروں کہ صلا اچھے گھر کی ہے محبوبِ ربِ عرش ہے اس سبز قبہ میں پہلو میں جلوہ گاہِ عتیق و عمر کی ہے چھائے ہیں ملائکہ ہیں لگاتار ہے درود! بدلے ہیں پہرے بدلی میں بارش دُر کی ہے سعدین کا قران ہے پہلوئے ماہ میں جھرمٹ کیے ہیں تارے تجلی قمر کی ہے ستر ہزار صبح ہیں ستر ہزار شام یوں بندگی زلف و رُخ آٹھوں پہر کی ہے جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں گے رُخصت ہی بارگاہ سے بس اس قدر کی ہے تڑپا کریں بدل کے پھر آنا کہاں نصیب بے حکم کب مجال پرندے کو پر کی ہے اے وائے بے تمنا کہ اب اُمید دن کو نہ شام کی ہے نہ شب کو سحر کی ہے یہ بدلیاں نہ ہوں تو کروروں کی آس جائے اور بارگاہ رحمت عام تر کی ہے معصوموں کو ہے عمر میں صرف ایکبار بار عاصی پڑے رہیں تو صلا عمر بھر کی ہے زندہ رہیں تو حاضری بارگہ نصیب مر جائیں تو حیاتِ ابد عیش گھر کی ہے مفلس اور ایسے پھر بے غنی ہوئے چاندی ہر اک طرح تو یہاں گدیہ گر کی ہے جاناں پہ تکیہ خاک نہالی ہے دل نہال ہاں بے نواؤ خوب یہ صورت گزر کی ہے ہیں چتر و تخت سایہ دیوار و خاکِ در شاہوں کو کب نصیب یہ ڈھج گزر و فر کی ہے اس پاک کو میں خاک بسر سربھاک ہیں سمجھے ہیں کچھ یہی جو حقیقت بسر کی ہے کیوں تاجدارو! خواب میں دیکھی کبھی یہ شے جو آج جھولیوں میں گدایانِ در کی ہے جاروکشوں میں چہرے لکھے ہیں ملوک کے وہ بھی کہاں نصیب فقط نام بھر کی ہے طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند سیدھی سڑک یہ شہرِ شفاعت نگر کی ہے عاصی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہد و! مکہ نہیں کہ جانچ جہاں خیر و شر کی ہے شانِ جمالِ طیبہِ جاناں ہے نفع محض! وسعتِ جلالِ مکہ میں سود و ضرر کی ہے کعبہ ہے بے شک انجمن آرا دلہن مگر ساری بہارِ دولہنوں میں دولہا کے گھر کی ہے کعبہ دلہن ہے تربتِ اطہر نئی دلہن یہ رشکِ آفتاب وہ غیرتِ قمر کی ہے دونوں بنیں سجیلی انیلی بنی مگر جو پی کے پاس ہے وہ سہاگن کنور کی ہے سرسبز و وصل یہ ہے سیہ پوشِ ہجر وہ چمکی دوپٹوں سے ہے جو حالت جگر کی ہے مَا و شَمَا تو کیا کہ خلیلِ جلیل کو کل دیکھنا کہ اُن سے تمنا نظر کی ہے اپنا شرف دُعا سے ہے باقی رہا قبول یہ جانیں ان کے ہاتھ میں کنجی اثر کی ہے جو چاہے ان سے مانگ کہ دونوں جہاں کی خیر زرِ ناخریدہ ایک کنیز ان کے گھر کی ہے رومی غلام دن حبشی باندیاں شبیں گنتی کنیز زادوں میں شام و سحر کی ہے اتنا عجب بلندیِ جنت پہ کس لئے دیکھا نہیں کہ بھیک یہ کس اونچے گھر کی ہے عرشِ بریں پہ کیوں نہ ہو فردوس کا دماغ اتری ہوئی شبیہ ترے بام و در کی ہے وہ خلد جس میں اترے گی ابرار کی برات ادنیٰ نچھاور اس مرے دولہا کے سر کی ہے عنبر زمیں عبیر ہوا مشک تر غبار ادنیٰ سی یہ شناخت تری رہ گزر کی ہے سرکار ہم گنواروں میں طرزِ ادب کہاں ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے مانگیں گے مانگ جائیں گے منھ مانگی پائیں گے سرکار میں نہ ہے نہ حاجت اگر کی ہے اُف بے حیائیاں کہ یہ مُنہ اور ترے حضور ہاں تُو کریم ہے تری خو درگزر کی ہے تجھ سے چھپاؤں مُنہ تو کروں کس کے سامنے کیا اور بھی کسی سے توقع نظر کی ہے جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں کیا پرسش اور جا بھی سگِ بے ہنر کی ہے بابِ عطا تو یہ ہے جو بہکا اِدھر اُدھر کیسی خرابی اس نکھرے در بدر کی ہے آباد ایک در ہے ترا اور ترے سوا جو بارگاہ دیکھیے غیرت کھنڈر کی ہے لب وا ہیں آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں کتنے مزے کی بھیک ترے پاک در کی ہے گھیرا اندھیروں نے دہائی ہے چاند کی تنہا ہوں کالی رات ہے منزل خطر کی ہے قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل ہزار کج یہ ساری گتھی ایک تری سیدھی نظر کی ہے ایسی بندھی نصیب کھلے مشکلیں کھلیں دونوں جہاں میں دھوم تمہاری کمر کی ہے جنت نہ دیں، نہ دیں، تری رویت ہو خیر سے اس گل کے آگے کس کو ہوس برگ و بر کی ہے شربت نہ دیں، نہ دیں، تو کرے بات لطف سے یہ شہد ہو تو پھر کسے پروا شکر کی ہے میں خانہ زادِ کہن ہوں صورت لکھی ہوئی بندوں کنیزوں میں مرے مادر پدر کی ہے منگتا کا ہاتھ اُٹھتے ہی داتا کی دین تھی دوریِ قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے سن کی وہ دیکھ بادِ شفاعت کہ دے ہوا یہ آبروِ رضا ترے دامانِ تر کی ہے