Home/Imam Ahmad Raza Khan Qadri/Ka'ba Ke Badrudduja Tum Pe Karoron Durood

Ka'ba Ke Badrudduja Tum Pe Karoron Durood

Written by Imam Ahmad Raza Khan Qadri

100%
کعبہ کے بدرالدجیٰ تم پہ کروروں درود طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروروں درود شافع روز جزا تم پہ کروروں درود دافع جملہ بلا تم پہ کروروں درود جان و دلِ اصفیا تم پہ کروروں درود آب و گلِ انبیا تم پہ کروروں درود لائیں تو یہ دوسرا دوسرا جس کو ملا گوشکِ عرش و دَنیٰ تم پہ کروروں درود اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروروں درود طور پہ جو شمع تھا چاند تھا سائیں کا نیّرِ فاراں ہوا تم پہ کروروں درود دل کرو ٹھنڈا مرا وہ کفِ پا چاند سا سینے پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروروں درود ذات ہوئی انتخاب وصف ہوئے لاجواب نام ہوا مصطفیٰ تم پہ کروروں درود غایت و علتِ سبب بہر جہاں تم ہو سب تم سے بنا تم بنا تم پہ کروروں درود تم سے جہاں کی حیات تم سے جہاں کا ثبات اصل سے ہے ظل بندھا تم پہ کروروں درود مغز ہو تم اور پوست اور ہیں باہر کے دوست تم ہو دُرونِ سرا تم پہ کروروں درود کیا ہیں جو بید ہیں لوث تم تو ہو غیث اور غوث چھنٹے میں ہوگا بھلا تم پہ کروروں درود تم ہو حفیظ و مغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروروں درود وہ شبِ معراج راج وہ صفِ محشر کا تاج کوئی بھی ایسا ہوا تم پہ کروروں درود نُحْتَ فَلَامَ الْفَلَامُ رُحْتَ فَرَامَ الْمَرَامُ عُدْ لِیَعُودَ الْھَنَا تم پہ کروروں درود جان و جہانِ مسیح داد کہ دل ہے جریح نبضیں چھٹیں دم چلا تم پہ کروروں درود اُف وہ رہِ سنگلاخ آہ یہ پا شاخ شاخ اے مرے مشکل گشا تم پہ کروروں درود تم سے کھلا بابِ جود تم سے ہے سب کا وجود تم سے ہے سب کی بقا تم پہ کروروں درود خستہ ہوں اور تم معاذ بستہ ہوں اور تم ملاذ آگے جو شہ کی رضا تم پہ کروروں درود گرچہ ہیں بے حد قصور تم ہو عَفُو و غفور بخش دو جُرم و خطا تم پہ کروروں درود مہرِ خدا نورِ نور دل ہے سیہ دن ہے دور شب میں کرو چاندنا تم پہ کروروں درود تم ہو شہید و بصیر اور میں گنہ پر دلیر کھول دو چشمِ حیا تم پہ کروروں درود چھینٹ تمہاری سحر چھوٹ تمہاری قمر دل میں رچا دو ضیا تم پہ کروروں درود تم سے خدا کا ظہور اس سے تمہارا ظہور لڑ ہے یہ وہ ان ہو اتم پہ کروروں درود بے ہنر و بے تمیز کس کو ہوئے ہیں عزیز ایک تمہارے سوا تم پہ کروروں درود آس ہے کوئی نہ پاس ایک تمہاری ہے آس بس ہے یہی آسرا تم پہ کروروں درود طارمِ اعلیٰ کا عرشِ گفِ پا کا ہے فرش آنکھوں پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروروں درود کہنے کو ہیں عام و خاص ایک تمہیں ہو خلاص بند سے کر دو رہا تم پہ کروروں درود تم ہو شفائے مَرَضِ خلقِ خدا خود غرض خلق کی حاجت بھی کیا تم پہ کروروں درود آہ وہ راہِ صراط بندوں کی کتنی بساط المدد اے رہنما تم پہ کروروں درود بے ادب و بد لحاظ کر نہ سکا کچھ حفاظ عَفْو پہ بھولا رہا تم پہ کروروں درود لوتِ دامن کہ شمعِ جھونکوں میں ہے روزِ جمع آندھیوں سے حشر اٹھا تم پہ کروروں درود سینۂ کہ ہے داغ داغ کہہ دو کرے باغ باغ طیبہ سے آ کر صبا تم پہ کروروں درود گیسو و قد لام الف کر دو بلا مُنْصَرِف لا کے تِہ تیغِ لا تم پہ کروروں درود تم نے بَرَنگِ فلق جیبِ جہاں کر کے شق نور کا تڑکا کیا تم پہ کروروں درود نَوبَتِ در میں فلک خادم در ہیں مَلَک تم ہو جہاں بادشاہ تم پہ کروروں درود خلق تمہاری جمیل خلق تمہارا جلیل خلق تمہاری گدا تم پہ کروروں درود طیبہ کے ماہِ تمام جملہ رُسُل کے امام نوشۂ ملکِ خدا تم پہ کروروں درود تم سے جہاں کا نظام تم پہ کروروں سلام تم پہ کروروں ثنا تم پہ کروروں درود تم ہو جواد و کریم تم ہو رَؤُف و رحیم بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروروں درود خلق کے حاکم ہو تم رزق کے قاسم ہو تم تم سے ملا جو ملا تم پہ کروروں درود نافع و دافع ہو تم شافع و رافع ہو تم تم سے بس افسرواں خدا تم پہ کروروں درود شافی و نافی ہو تم کافی و وافی ہو تم درد کو کر دو دوا تم پہ کروروں درود جائیں نہ جب تک غلام خُلد ہے سب پر حرام ملک تو ہے آپ کا تم پہ کروروں درود مَظْہَرِ حق ہو تمہیں مُظْہِرِ حق ہو تمہیں تم میں ہے ظاہر خدا تم پہ کروروں درود زور دہِ نارساں تکیہ گہِ بے کساں بادشہِ ماورا تم پہ کروروں درود برسے کرم کی پھولیں نعم کے چمن ایسی چلا دو ہوا تم پہ کروروں درود اک طرف اعدائے دیں ایک طرف حاسدیں بندہ ہے تنہا شہا تم پہ کروروں درود کیوں کہوں بیکس ہوں میں کیوں کہوں بے بس ہوں میں تم ہو میں تم پر فدا تم پہ کروروں درود گندے نکمے کمین مہنگے ہوں کوڑی کے تین کون ہمیں پالتا تم پہ کروروں درود بانٹ نہ در کے کہیں گھاٹ نہ گھر کے کہیں ایسے تمہیں پالنا تم پہ کروروں درود ایسوں کو نعمت کھلا و دودھ کے شربت پلاؤ ایسوں کو ایسی غذا تم پہ کروروں درود گرنے کو ہوں لوگ ٹوٹا لگے ہاتھ دو ایسوں پر ایسی عطا تم پہ کروروں درود اپنے خطا واروں کو اپنے ہی دامن میں لو کون کرے یہ بھلا تم پہ کروروں درود کر کے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ تم کہو دامن میں آ تم پہ کروروں درود کر دو عدو کو تباہ حاسدوں کو رو براہ اہل ولا کا بھلا تم پہ کروروں درود ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی کوئی کمی سرور ا تم پہ کروروں درود کام غضب کے کیے اس پہ ہے سرکار سے بندوں کو چشمِ رضا تم پہ کروروں درود آنکھ عطا کیجیے اس میں ضیا دیجیے جلوہِ قریب آ گیا تم پہ کروروں درود کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے ٹھیک ہو نام رضا تم پہ کروروں درود