Home/Allama Hasan Raza Khan/Kaun kehta hai ke zeenat-e-khuld ki achi nahi

کون کہتا ہے کہ زینتِ خلد کی اچھی نہیں

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
کون کہتا ہے کہ زینتِ خلد کی اچھی نہیں لیکن اے دل فرقتِ کوئے نبی اچھی نہیں رحم کی سرکار میں پُرسش ہے ایسوں کی بہت اے دل اچھا ہے اگر حالتِ مری اچھی نہیں تیرہ دل کو جلوۂ ماہِ عرب درکار ہے چودھویں کے چاند تیری چاندنی اچھی نہیں کچھ خبر ہے میں برا ہوں کیسے اچھے کا بُرا مجھ بُرے پہ زاہد و طعنہ زنی اچھی نہیں اس گلی سے دُور رہ کر کیا مریں ہم کیا جییں آہ ایسی موت ایسی زندگی اچھی نہیں اُن کے در کی بھیک چھوڑیں سروری کے واسطے اُن کے در کی بھیک اچھی سروری اچھی نہیں خاک اُن کے آستانے کی منگا دے چارہ گر فکر کیا حالت اگر بیمار کی اچھی نہیں سایۂ دیوارِ جاناں میں ہو بسترِ خاک پر آرزوئے تاج و تختِ خُسروی اچھی نہیں دردِ عصیاں کی ترقی سے ہوا ہوں جاں بلب مجھ کو اچھا کیجئے حالتِ مری اچھی نہیں ذرۂ طیبہ کی طلعت کے مقابل اے قمر گھٹتی بڑھتی چار دن کی چاندنی اچھی نہیں موسمِ گل کیوں دکھائے ہیں یہ سبز باغ دشتِ طیبہ جائیں گے ہم رہزنی اچھی نہیں بیکسوں پر مہرباں ہے رحمتِ بیکس نواز کون کہتا ہے ہماری بیکسی اچھی نہیں بندہ سرکار ہو پھر خدا کی بندگی ورنہ اے بندے خدا کی بندگی اچھی نہیں اور سرکار بنے ہیں تو انہیں کے در سے ہم گدا اور کی سرکار کو کیونکر دیکھیں دستِ صیاد سے آہو کو چھڑائیں جو کریم دامِ غم میں وہ گرفتار ہم بھی دیکھیں تابِ دیدار کا دعویٰ ہے جنہیں سامنے آئیں دیکھتے ہیں ترے رخسار کو کیونکر دیکھیں دیکھتے کوچہِ محبوب میں کیونکر پہنچیں دیکھئے جلوہِ دیدار کو کیونکر دیکھیں اہلکارانِ سقر اور ارادہ سے حُسن نازِ پروردہِ سرکار کو کیونکر دیکھیں