رضائے غوث احمد کی رضا ہے
رضا احمد کی مرضی خدا ہے
کمالات و علومِ مصطفیٰ سے
شہِ جیلاں تجھے حصہ ملا ہے
تو آئینہ جمالِ مصطفیٰ کا
تو حق گو حق شناسِ حق نما ہے
جنابِ مصطفیٰ ظلِ خدا ہیں
تو ظلِ مصطفیٰ نورِ خدا ہے
ترے ہم ہو چکے تو ہے ہمارا
خدا کا تو ہے اور تیرا خدا ہے
جو منکر ہے ترا وہ حق کا منکر
جو بندہ ہے ترا عبدِ خدا ہے
ترا منگتا ہے مقبولِ الہیٰ
ترے منکر پہ قہرِ کبریا ہے
مُحیی الدّیں نہ کیوں ہو نام تیرا
کہ تو نے دینِ حق زندہ کیا ہے
کوئی بغداد والے سے یہ کہہ دے
کہ وقتِ اسلام پر آ کر پڑا ہے
کوئی ہو اس طرف رحمت کا پھیرا
کہ بندہ راہ تیری تک رہا ہے
کدھر ہو قادری دولہا کدھر ہو
یہ ہر مجرم کے لب پر التجا ہے
شرف کس سے بیاں ہو تیرے سر کا
ولی کا تاج تیرا نقش پا ہے