Home/Imam Ahmad Raza Khan Qadri/Sona jungle raat andheri chhayi badli kali hai

Sona jungle raat andheri chhayi badli kali hai

Written by Imam Ahmad Raza Khan Qadri

100%
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں تیری گٹھڑی تاکہ ہے اور تُو نے نیند نکالی ہے یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا ہائے مسافر دم میں آنا مت کیسی متوالی ہے سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اُٹھ پیارے تُو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی زرائی ہے آنکھیں ملنا جھنجھلا پڑنا لاکھوں جمائی انگڑائی نام پر اُٹھنے کے لڑتا ہے اُٹھنا بھی کچھ گالی ہے جگنو چمکے پتہ کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑکے ڈر سمجھائے کوئی پون ہے یا آگیا بیتالی ہے بادل گرجے بجلی تڑپے ڈھک سے کلیجہ ہو جائے بن میں گھٹا کی بھیا نک کیسی صورت کالی کالی ہے پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منہ مینہ نے پھسلن کر دی ہے اور ڈھرتک کھائی نالی ہے ساتھی ساتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے پھر جھنجھلا کر سر دے پٹکوں چل رے مولی والی ہے پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو دیکھو مجھ بے کس پر شب میں کیسی آفت ڈالی ہے دُنیا کو تُو کیا جانے یہ بس کی گانٹھ ہے حرافہ صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے شہد دکھائے زہر پلائے، قاتل، ڈائن، شوہر کش اس مردار پہ کیا للچایا دُنیا دیکھی بھالی ہے وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے ورنہ رضاؔ سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے