آہ! ہر لمحہ گُناہ کی کثرت اور بھرمار ہے
غلبۂ شیطان ہے اور نَفْسِ بد اطوار ہے
مُجرموں کے واسطے دوزخ بھی شُعلہ بار ہے
ہر گُناہ قَصداً کیا ہے اسکا بھی اقرار ہے
ہائے! نافرمانیاں بدکاریاں بے باکیاں
آہ! نامے میں گناہوں کی بڑی بھرمار ہے
چھپ کے لوگوں سے گناہوں کا رہا ہے سلسلہ
تیرے آگے یاخدا ہر جُرم کا اظہار ہے
زندگی کی شام ڈھلتی جارہی ہے ہائے نَفْس!
گرم روز و شب گناہوں کا ہی بس بازار ہے
یاخدا! رَحمت تری حاوی ہے تیرے قہر پر
فَضل و رَحمت کے سہارے جی رہا بدکار ہے