Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Aah! Madani Qafila Ab Ja Raha Hai Laut Kar

آہ! مدنی قافلہ اب جا رہا ہے لوٹ کر

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
(یہ نظم دعوتِ اسلامی کے سُنّتوں کی تربیت کے مدنی قافلے کی واپسی کا وقت قریب آنے پر سُنّتوں کی تڑپ رکھنے والے حسّاس عاشقانِ رسول کے ولولہ انگیز جذبات کی عکاس ہے) آہ! مدنی قافلہ اب جا رہا ہے لوٹ کر کوئی دل تھامے کھڑا ہے کوئی ہے باچشمِ تر سُنّتوں کی تربیت کے قافلوں کے قَدَر داں جب پلٹتے ہیں گھروں کو روتے ہیں وہ پھوٹ کر کس قَدَر خوش تھے نکل کر چل دیے تھے گھر سے جب اب اُداسی چھا رہی ہے ہائے! اپنے قلب پر فِکر تھی گھر کی نہ کوئی فکرِ کاروبار کی لُطف خوب آتا تھا ہم کو مسجدوں میں بیٹھ کر جاتے ہی دنیا کے جھگڑے پھر گلے پڑ جائیں گے کیا کریں لاچار ہیں حالات پر باجماعت سب نمازیں اور تہجد کے مزے اتنی آسانی سے پھر مل جائیں گے کیا جاکے گھر؟ یا خدا! نکلوں میں مدنی قافلوں کیساتھ کاش! سُنّتوں کی تربیت کے واسطے پھر جلد تر!! ہائے! سارا وَقت میرا غفلتوں میں کٹ گیا آہ! کب ہوگا میسّر پھر مبارک یہ سفر دینی ماحول اور مدنی قافلے والوں کی کچھ بھی نہ کی ہے قَدْر ہائے! ہوں میں ناداں کس قَدَر مسجدوں کا کچھ ادب ہائے! نہ مجھ سے ہوسکا از طفیلِ مصطفٰے فرما الٰہی درگزر آہ! شیطاں ہر گھڑی ہر وَقت غالب ہی رہا عادتِ عصیاں نے رکھ دی توڑ کر ہائے! کمر خوب خدمت سُنّتوں کی ہم سدا کرتے رہیں دینی ماحول اے خدا ہم سے نہ چھوٹئے عمر بھر اس علاقے والے سارے بھائیوں کا شکریہ ساتھ جو دیتے رہے ہیں قافلے کا سر بسر سُنّتوں کی تربیت کے واسطے نکلا تھا میں ہائے پر سوتا رہا غفلت کی چادر تان کر یا رسول اللہ اپنے در پہ اب بلوائیے ہو نصیب آقا ہمیں میٹھے مدینے کا سفر ہے دعا عطار کی: ”اس کی ہو حتمی مغفرت“ قافلوں میں عمر بھر کرتا رہے جو بھی سفر