آج طیبہ کا ہے سفر آقا دے دو توشے میں چشمِ تر آقا
غمزدہ ہوں میں کس قدر آقا تم کو میری ہے سب خبر آقا
مجھ کو بیماریوں نے گھیرا ہے آپ ہیں میرے چارہ گر آقا
چند اشکوں کے ماسوا پلے کچھ نہیں توشہِ سفر آقا
تاجِ شاہی کا میں نہیں طالب کر دو رحمت کی اک نظر آقا
تیری الفت کا میں بھکاری ہوں میرا کشکول جائے بھر آقا
قلبِ مضطر دو چشمِ تر دو اور چاک سینہ تپاں جگر آقا
”چل مدینہ“ کا وہ بھی مژدہ جن کے پلے نہیں ہے زر آقا
کیا عمامے کی ہو بیاں عظمت تیرے نعلین تاجِ سر آقا
تیرے ہوتے ہوئے بھلا کیوں ہو وارِ دشمن کا کارگر آقا
اس طرح سے چھپا لو دامن میں نہ عدو کی پڑے نظر آقا
معترف ہوں گناہ کرنے میں کوئی چھوڑی نہیں کسر آقا
پھنس گیا ہوں گنہ کی دلدل میں
ہو کرم شاہ بحر و بر آقا
میں گنہگار ہوں مگر قرباں
تیری رحمت کی ہے نظر آقا
واسطہ میرے غوثِ اعظم کا
ہر خطا کر دو درگزر آقا
تم اُسے بھی گلے لگاتے ہو
جس کو دُھتکارے ہر بشر آقا
میں جہنم میں گر گیا ہوتا
نہ بچاتے مجھے اگر آقا
کاش! نیچی نظر رہے، بے کار
میں نہ دیکھوں اِدھر اُدھر آقا
جان چھوٹے فضول باتوں سے
از پئے حضرتِ عمر آقا
مولیٰ مشکلکشا کے صدقے میں
استقامت دو دین پر آقا
از پئے مرشدی ضیاء الدین
میرے دل میں بناؤ گھر آقا
کاش! اِس شان سے یہ دم نکلے
تیری دہلیز پر ہو سر آقا
اِذنِ دیدارِ بقیعِ غرقد کا
تیرے جلووں میں جاؤں مر، آقا
کیا بنے گا بجائے طیبہ کے
سندھ میں مر گیا اگر آقا
موت عطار کو مدینے میں
آئے اب تو نہ جائے گھر آقا