آپ آقاؤں کے آقا آپ ہیں شاہِ انام
یارسول اللہ میں ہوں آپ کا ادنیٰ غلام
بات کی ہمت نہیں پڑتی ادب کا ہے مقام
دل اجازت ہی نہیں دیتا کروں کیسے کلام
سوز سرکار اے خدائے پاک تُو کر دے عطا
عشقِ سرور میں تڑپتا ہی رہوں مولیٰ مدام
یالہی! مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنا
کاش! ہو ذِکرِ مدینہ میرے لب پر صبح و شام
تلمیوں میں خوش رہوں اور لذتوں سے بے نیاز
کاش! قابو میں رہے یہ میرا نفسِ بدلگام
جو تڑپتے ہیں مدینے کی جدائی میں شہا!
ان غریبوں کا بھی کر دو یانبی کچھ انتظام
اب تو دید و تم مدینے میں شہادت کا شرف
یانبی! کر دو یہ پوری آرزوئے ناتمام
حَشر کی گرمی بلا کی پیاس سے ہوں نیم جاں
ساقیا! لِلہ کوثر کا چھلکتا ایک جام
یالہی! فالتو باتوں کی عادت دُور ہو
کاش! لب پر کوئی بھی جاری نہ ہو بے جا کلام
ہر گھڑی شرم و حیا سے بس رہے نیچی نظر
پیکرِ شرم و حیا بن کر رہوں آقا مُدام
اے خدائے مصطفےٰ عطّار کو وہ آنکھ دے
ہو غمِ محبوب میں آنسو بہانا جس کا کام