آپ کا نام سنتے ہی سرکار کاش دل مچلنے لگے جان ہو بے قرار
میرا سینہ مدینہ بنا دیجئے قلب کی ہو مدینہ مدینہ پکار
گر پڑوں ان کے قدموں میں روتے ہوئے عاصیوں پر بھی ان کو تو آتا ہے پیار
اب تو آجائیے مجھ کو چھڑوائیے ہر طرف سے گناہوں کا ہوں میں شکار
میرے آقا! برہانے چلے آئے جاں بلب کب تلک اب کرے انتظار
میری آمد ہو طیبہ میں اے کاش یوں چاک سینہ ہو دامن بھی ہو تار تار
بھائیو، بہنو اپناؤ تم سُنّتیں خوش ہو رب تم سے راضی شہِ نامدار
موت بدکار کو آئے طیبہ میں پھر بقیعِ مبارک میں اس کا مزار
یا خدا بے سبب بخش عطارؔ کو اس کو جنّت میں دیدِ نبی کا بھوار