Home/Allama Hasan Raza Khan/Aasiyon Ko Dar Tumhara Mil Gaya

عاصیوں کو در تمہارا مل گیا

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
عاصیوں کو در تمہارا مل گیا بے ٹھکانوں کو ٹھکانہ مل گیا فضلِ رب سے پھر کمی کس بات کی مل گیا سب کچھ جو طیبہ مل گیا کشفِ رازِ مَن رَآنِی یوں ہوا تم ملے تو حق تعالیٰ مل گیا بیخودی ہے باعثِ کشفِ حجاب مل گیا ملنے کا رستہ مل گیا ان کے دَر نے سب سے مُستغنی کیا بے طلب بے خواہش اتنا مل گیا ناخدائی کے لئے آئے حضور ڈوبتے نکلو سہارا مل گیا دونوں عالم سے مجھے کیوں کھو دیا نفسِ خود مطلب تجھے کیا مل گیا آنکھیں پُر نم ہو گئیں سر جھک گیا جب ترا نقشِ کفِ پا مل گیا خلد کیسا کیا چمن کس کا وطن مجھ کو صحرائے مدینہ مل گیا ہے محبت کس قدر نامِ خدا نامِ حق سے نامِ والا مل گیا ان کے طالب نے جو چاہا پالیا ان کے سائل نے جو مانگا مل گیا تیرے در کے ٹکڑے ہیں اور میں غریب مجھ کو روزی کا ٹھکانا مل گیا اے حسنؔ فردوس میں جائیں جناب ہم کو صحرائے مدینہ مل گیا دَر و دیوار روشن ہو جاتے جب رحمتِ عالم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسکراتے تو آپ کے دندانِ مبارک کے نور سے دَر و دیوار روشن ہو جاتے۔ (الشفاء، ص ٦١، مرکز اھلِ سنت برکاتِ رضا، ہند)