اچھے کے پیارے میرے سہارے
باہر ہیں بیاں سے اُن کے مناقب
وہ اور شریعت وہ اور طریقت
دودل یک آرمال یک جاں دوقالب
عبد و خدا میں مانندِ برزخ
مقصود و قاصد مطلوب و طالب
دریائے رحمت گلزارِ رافت
جانِ مراہم کانِ مواہب
نجمِ منازل شمعِ محافل
مہرِ مشارق ماہِ مغارب
خلقِ خدا کے کیوں نہ ہوں رہبر
ہیں مصطفےٰ کے فرزند و نائب
خود عینِ نور سیدی کے نورِ عین
عشقی کے دل کے چین مرے درد کی دوا
میرے بزرگ بھی اسی در کے غلام ہیں
میں بھی کمینہ بندہ اسی بارگاہ کا
ما بندہ قدیم و توئی خواجہ کریم
پروردہ تو ایم بفیضائے قدما
جانِ ظہور اب کوئی اخفا کا وقت ہے
حائل جو پردہ بیچ میں تھا وہ بھی اٹھ گیا
اسرار کا ظہور ہو شانِ ظہور سے
استار سے اٹھائیے اب پردہ خفا
اعلان سے دکھائیے وہ قادری کمال
اظہار کیجے شوکتِ قدرت کا برملا
دروازے کھول دیجیے امدادِ غیب کے
کاسے لیے کھڑے ہیں بہت دیر سے گدا
یا سیدی میں کہہ کے پکاروں بلا کے وقت
تم لا تخف سناتے ہوئے آؤ سرورا