افلاک سے اونچا ہے ایوانِ محمدؐ کا
مخلوقِ الہیٰ ہے سامانِ محمدؐ کا
پاتے ہیں سبھی صدقہ اُن کے درِ اقدس سے
ہر ذرۂ عالم ہے مہمانِ محمدؐ کا
ہوتی ہے ہر اک نعمت تقسیم مدینے سے
کونین میں جاری ہے فیضانِ محمدؐ کا
دیتے ہیں مَلک پہرہ سرکار کے روضے پر
جبریلِ معظّم ہے دربانِ محمدؐ کا
عالم ہے اگر شیدا اُن پر تو تعجب کیا
خود چاہنے والا ہے رحمنِ محمدؐ کا
شاہانِ جہاں کیوں کر رکھیں نہ سر آنکھوں پر
فرمانِ الہیٰ ہے فرمانِ محمدؐ کا
حور و مَلک و غلماں و بشر و حیواں
لیتے ہیں سبھی سر پر فرمانِ محمدؐ کا