Home/Allama Hasan Raza Khan/Ajab Karam Shah-e-Wala Karte Hain

عجب کرم شہ والا کرتے ہیں

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
عجب کرم شہِ والا کرتے ہیں کہ نا اُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں جما کے دِل میں صفیں حسرت و تمنا کی نگاہِ لطف کا ہم انتظار کرتے ہیں مجھے فسردگیِ بخت کا الم کیا ہو وہ ایک دَم میں خزاں کو بہار کرتے ہیں خدا سگانِ نبی سے یہ مجھ کو سُنوا دے ہم اپنے کُتوں میں تجھ کو شمار کرتے ہیں ملائکہ کو بھی ہیں کچھ فضیلتیں ہم پر کہ پاس رہتے ہیں طوافِ مزار کرتے ہیں جو خوش نصیب یہاں خاکِ در پہ بیٹھتے ہیں جلوسِ مسندِ شاہی سے عار کرتے ہیں ہمارے دِل کی لگی بھی وہی بجھا دیں گے جو دَم میں آگ کو باغ و بہار کرتے ہیں اشارہ کر دو تو بادِ خلاف کے جھونکے ابھی ہمارے سفینے کو پار کرتے ہیں تمہارے در کے گداؤں کی شان عالی ہے وہ جس کو چاہتے ہیں تاجدار کرتے ہیں گدا گدا ہے گدا تو کیا ہی چاہیے ادب بڑے بڑے تیرے دَر کا وقار کرتے ہیں تمام خَلق کو منظور ہے رضا جن کی رضا حضور کی وہ اختیار کرتے ہیں سُنا کے وصفِ رُخِ پاک عندلیب کو ہم رہینِ آمدِ فصلِ بہار کرتے ہیں ہوا خلاف ہو چکڑائے ناؤ کیا غم ہے وہ ایک آن میں بیڑے کو پار کرتے ہیں آنا لِھا ہے وہ بازارِ کُشپُرساں میں تسلیِ دِلِ بے اختیار کرتے ہیں بنائی پشت نہ کعبہ کی ان کے گھر کی طرف جنہیں خبر ہے وہ ایسا وقار کرتے ہیں کبھی وہ تاجورانِ زمانہ کر نہ سکیں جو کام آپ کے خدمت گزار کرتے ہیں ہوائے دامنِ جاناں کے جھونکے خزاں رسیدوں کو باغ و بہار کرتے ہیں سگانِ کوئے نبی کے نصیب پر قرباں پڑے ہوئے سرِ رہ افتخار کرتے ہیں کوئی یہ پوچھے مرے دِل سے میری حسرت سے کہ ٹوٹے حال میں کیا غم گسار کرتے ہیں وہ ان کے دَر کے فقیروں سے کیوں نہیں کہتے جو شکوہِ ستمِ روزگار کرتے ہیں تمہارے ہجر کے صدموں کی تاب کس کو ہے یہ چوبِ خشک کو بھی بے قرار کرتے ہیں کسی بلا سے انہیں پہنچے کس طرح آسیب جو تیرے نام سے اپنا حصار کرتے ہیں سنا نہ مرتے ہوئے آج تک کسی نے انہیں جو اپنے جان و دل ان پر نثار کرتے ہیں انہیں کا جلوہ سر بزم دیکھتے ہیں پتنگ انہیں کی یاد چمن میں ہزار کرتے ہیں مرے کریم نہ آہو کو قید دیکھ سکے عبث اسیرِ اَلَم انتشار کرتے ہیں جو ذرّے آتے ہیں پائے حضور کے نیچے چمک کے مہر کو وہ شرمسار کرتے ہیں جو مُوئے پاک کو رکھتے ہیں اپنی ٹوپی میں شجاعتیں وہ دم کارزار کرتے ہیں جدھر وہ آتے ہیں اب اس میں دل ہوں یا راہیں مہک سے گیسووں کی مشکبار کرتے ہیں حسن کی جان ہو اس وسعتِ کرم پہ نثار کہ اِک جہان کو اُمیدوار کرتے ہیں