اللہ اللہ اللہ اللہ
سارے عالم کو ہے تیری ہی جستجو
جن و انس و ملک کو تری آرزو
یاد میں تیری ہر ایک ہے سو بَسو
بَن میں و حشی لگاتے ہیں ضرباتِ ہو
اللہ اللہ اللہ اللہ
نغمہ سنجانِ گلشن میں چرچا ترا
چپکے ذکرِ حق کے ہیں صبح و مسا
اپنی اپنی چہک اپنی اپنی صدا
سب کا مطلب ہے واحد کہ واحد ہے تو
اللہ اللہ اللہ اللہ
طائرانِ جناں میں تری گفتگو
گیت تیرے ہی گاتے ہیں وہ خوش گلو
کوئی کہتا ہے حق کوئی کہتا ہے ہو
اور سب کہتے ہیں لَا شَرِیْکَ لَہٗ
اللہ اللہ اللہ اللہ
بلبلِ خوش نوا طوطیِ خوش گلو
زمرمہ خواں ہیں گاتے ہیں نغماتِ ہو
قمریِ خوش لقا بولی حَق سُرہٗ
فاختہ خوش ادا نے کہا دوست تو
اللہ اللہ اللہ اللہ
صبح دم کر کے شبنم سے غُسل و وضو
شاہدانِ چمن بستہ صف رُو برو
ورد کرتے ہیں تسبیح سُبْحَانَہٗ
هُوَ وَ لَا غَیْرُہٗ هُو وَ لَا غَیْرُہٗ
اللہ اللہ اللہ اللہ
ہر نہالِ چمن ذکر سے ہے نہال
ذکرِ حق ہی اسے کرتا ہے مالا مال
ذکر سے چوک کر ہوتا ہے وہ نڈھال
ذکر ہی تیرا ہے اس کی وجہِ نمو
اللہ اللہ اللہ اللہ
وہ بھی تسبیح سے رکھتا ہے اشتغال
جو نہیں رکھتا منہ اور لسانِ مقال
پھر بھی گویائے تسبیح ہے اس کا حال
اس کی حالی زباں کہتی ہے تو ہی تو
اللہ اللہ اللہ اللہ
جو ہے غافل ترے ذکر سے ذوالجلال
اس کی غفلت ہے اس پر وبال و نکال
قعرِ غفلت سے ہم کو خدایا نکال
ہم ہوں ذاکر ترے اور مذکور تو
اللہ اللہ اللہ اللہ
ہے زباںِ جہاں حمدِ باری میں لال
دَم کوئی حمد کا مارے کس کی مجال
تا بَامکاں ہم رکھتے ہیں قِیل و قال
اس کو مقبول فرمالے رحمت سے تو
اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ
بھر دے الفت کی مے سے ہمارا سبو
دل میں آنکھوں میں تو اور لب پر ہو تو
کیف میں وجد کرتے پھریں گو بگو
ورد گایا کریں پے پے سو بسو
اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ
عفو فرما خطائیں مری اے عفو
شوق و توفیق نیکی کا دے مجھ کو تو
جاری دل کر کہ ہر دم رہے ذکر ہو
عادتِ بد بدل اور کر نیک خو
اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ
بد ہوں مولیٰ مرے کو کر دے نکو
رختِ اعمال ہے چاک فرما رفو
تیری رحمت کی اُمید ہے اے عفو
کہ ہے ارشادِ قرآن لَا تَقْنَطُوْا
اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ
داخلِ خُلد ہم کو جو فرمائے تو
ہم ہوں اور حُور و غلماں لبِ آبِ جو
اور جامِ طہور اور میناِ سبو
دیکھیں اعدا تو رہ جائیں پی کر لہو
اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ
ٹھنڈی ٹھنڈی نسیمیں چلیں میرے رب
فتنوں کی دھول سے پاک ہووے عرب
ایسا برسا بہا دے جو خاشاک سب
تیری رحمت کے بادل گھیریں چار سُو
اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ
رحم فرما خدایا حرم پاک ہو
تو نے تقدیس بخشی ہے جس خاک کو
دفع فرما وہاں پر ہے بے باک جو
اور گرا بجلیاں قہر کی بر عدو
اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ
نور کی تیرے ہے اِک جھلک خوبرو
دیکھے نوری تو کیوں نہ یاد آئے تو
اُن کا سرور ہے مظہر ترا ہو بہو
مَنْ رَّآنِی رَأَی الْحَقَّ مُوبمو
اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ
خوابِ نوری میں آئیں جو نورِ خدا
بقعۂ نور ہو اپنا ظلمت کدا
جگمگا اٹھے دل چہرہ ہو پُر ضیا
نوریوں کی طرح شُغل ہو ذکر ہو
اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ
لا موجود الا اللہ لا مشہود الا اللہ
لا موجود الا اللہ لا مشہود الا اللہ
لا مقصود الا اللہ لا معبود الا اللہ
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
ہے موجود حقیقی وہ ہے مشہود حقیقی وہ
ہے مقصود حقیقی وہ معبود حق و حقیقی وہ
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
ھو ھو ھو ھو ھو ھو اللہ ھو اللہ
تیرا جلوہ ہے ہر سو تو ہی تو ہے تو ہی تو
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
حق ھو حق ھو حق ھو حق رب ناس و رب فلق
غیر نہیں تیرا مطلق بھولوں گا میں یہ نہ سبق
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
أنت الھادی أنت الحق رنگ باطل اس سے فق
قلبِ مُبطِل سن کر شق قلبِ مُسلم کی رونق
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
رَبِّ حَسْبِی جَلَّ اللہ مَا فِی قَلْبِی إِلَّا اللہ
حق حق حق اللہ اللہ رب رب رب سُبْحَنَ اللہ
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْء لَّیْسَ لَہُ کُفُوًا أَحَد
اس سے بن ہے وہ نہیں بن اَبْصِر اِسْمَع دیکھ اور سُن
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
لَیْسَ الْھَادِی إِلَّا ھُوَ کہتا ہے یہ ہر بن مو
سنتا ہوں میں از ہر سو لَیْسَ سِوَاک یا مَنْ ھُو
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
بن کو بنایا ہے اس نے بن کو جمایا ہے اس نے
بن کو اُگایا ہے اس نے باغ کھلایا ہے اس نے
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
اللہ اللہ و رب و احد فرد و واحد وتر و صمد
جس کا والد ہے نہ ولد ذات و صفات میں بے حد و عد
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
ایک حقیقی ہے وہ اَحد ایک نہیں وہ جو ہے عدد
پاک ہے وہ از صورت وحد کَیْفَ یُصَوَّر کَیْفَ یُحَدّ
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
مُنْعِم و حق و سمیع و بصیر باقی باری بر و خبیر
جامع مانع منار و کبیر رافع نافع حی و قدیر
لا إلہ إلا اللہ امنا برسول اللہ
حَکَم و عَدْل و عَلِی و عَظِیم
دَیَّان و رَحْمٰن و رَحِیم
قُدُّوس و حَنَّان و حَلِیم
فَتَّاح و مَنَّان و کَرِیم
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
وَالِی وَلِی مُتَعَالِی حَکِیم
وَہَّاب و رَزَّاق و عَلِیم
مَالِکِ یَوْمِ دِین و جَحِیم
مَالِکِ مُلْکِ خُلد و نَعِیم
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
وہ ہے عَزِیز و مُجِیب شَکُور
وہ ہے بَدِیع و قَرِیب صَبُور
وہ ہے مَتِین و حَسِیب و غَفُور
وہ ہے مُعِین و رَقِیب ضَرُور
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
وہ ہے مُقَدَّم اور غَفَّار
وہ ہے مُہَیْمِن اور جَبَّار
وہ ہے مُؤَخِّر اور قَہَّار
وہ ہے بَاسِط اور سَتَّار
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
نُور مُصَوِّر اور طَاہِر
بَاطِن اَوَّل اور آخِر
وَاجِد مَاجِد اور قَادِر
مُؤمِن مُتَکَبِّر قَاہِر
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
تَوَّاب و مُغْنِی ہَادِی
مُقْسِط مُحْیِی مُمِیت غَنِی
مُنْتَقِم و قَیُّوم و قَوِی
مُقْتَدِر و وَاسِع مُحْصِی
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
مُبْدِی جَلِیل و حَفِیظ و مَجِید
مُعْطِی وَکِیل و سَلَام و مُعِید
وہ ہے لَطِیف و وَدُود و وَحِید
اور شَهِید و حَمِید و رَشِید
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
وہ ہے جَوَّاد عَفُو عَطُوف
اَزَلِی اَبَدِی ہے مَعْرُوف
یَصْرِف عَنَّا جَمِیع صُرُوف
مَوْلَی الْکُل وَ ہُوَ رَؤُوف
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
وہ ہے مُحِیطِ اِنس و جاں
وہ ہے مُحِیطِ جِسم و جاں
وہ ہے مُحِیطِ کُلِ اَزاں
وہ ہے مُحِیطِ کَون و مَکاں
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
وہ ہے مُقِیت و مُعِز و مُذِل
وہ ہے حَفِیظ و نَصِیرِ اے دِل
بَاد و آتَش و آب و گِل
سَب کا وہ ہی ہے فَاعِل
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
مادّے اِس نے پَیدا کیے
اُس کے اَمرِ کُن سے بنے
دَور و تَسَلسُل کے جھگڑے
اَمرِ حَق سے قَط ہوئے
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
قَابِض و بَاعِث خَالِق ہے
خَافِض و وَارِث رَازِق ہے
جو ہے اُس کا عَاشِق ہے
غَیرِ نَاطِق نَاطِق ہے
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
کوئی نہ اس سے سابق ہے کوئی نہ اس سے لاحق ہے
کون ثناء کے لائق ہے ناطق غیرِ ناطق ہے
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
سب ہیں حادِث وہ ہے قدیم کوئی نہیں ہے اس کا ندیم
پیدا اس نے کئے ہیں فہیم اور اسی نے بنائے لئیم
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ایک ہی ہے وہ بے شک ایک بندہ اس کا ہر بد و نیک
کافر دل میں اس سے اٹیک اپنے دل کی ہے یہی ٹیک
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ساجھی نہ اس کا کوئی شریک وہی مَلِک ہے وہی مَلیک
پاک مکاں سے اور نزدیک دیکھے سنے پشت و باریک
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
وہ ہے مُنَزَّہ شرکت سے پاک سکون و حرکت سے
کام ہیں اس کے حکمت سے کرتا ہے سب قدرت سے
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ایک وجودِ حقیقی تھا غیر سراسر فانی ہوا
حَق ہیں نظر سے جب دیکھا برملا کہہ اٹھے عُقلا
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
باقی وجودِ حقیقت تھا باقی یکسر منفی ہوا
کہہ اٹھے یہ بعض عُرفا مَا فِی حُبِّی اِلَّا اللہ
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ہر ہر ذَرَّہ ہر قطرہ شاہِد ہے ہر ہر لمحہ
اس کی قدرت و صنعت کا یکتائی و وحدت کا
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
اللہِ واحِد و یکتا ہے ایک خدا بس تنہا ہے
کوئی نہ اس کا ہَمتا ہے ایک ہی سب کی سنتا ہے
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ایک نہ ہوتا گر اللہ کیسے رہتے ارض و سما
ہوتا نہ اک محتاج اک کا کس لیے یہ اس سے ملتا
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
سوتا پیتا کھاتا نہیں اس کا رشتہ ناتا نہیں
اس کے پتا اور ماتا نہیں اس کے جوڑو جاتا نہیں
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
جَهل و ظُلم و کذب و زِنا خواری میخواری سَرِقہ
اس سے ممکن جس نے کہا لَارِیْب اس نے کُفر بکا
لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
روح نہیں ہے وہ نہ جسم مقسم ہے وہ نہ قسم و قسیم
اس کے صفات و اسماء قدیم یہ ہے اپنا دینِ قویم
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ہے وہ زمان و جہات سے پاک وہ ہے دیمم صفات سے پاک
وہ سارے محالات سے پاک وہ ہے سب حالات سے پاک
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
پاک ہے عیبوں سے مولیٰ عیب کو اس سے علاقہ کیا
عیب اس کا صالح نہ ہوا ہو مُتعلِّق قدرت کا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
روشن ہے یہ جیسے دن اس کا تلؤّت ناممکن
واقع کہتا ہے مؤمن اور پھر بنتا ہے مومن
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
مَنْ اَصْدَقُ مِنْہُ قِیْلًا مَنْ اَصْدَقُ مِنْہُ حَدِیْثًا
کیسا کیسا رب نے کہا منکر ایک نہیں سنتا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
صدقِ رب واجب ہے کذبِ محال اے خائب ہے
جمع دو ضد کب جائز ہے عقل کہاں تری غائب ہے
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
اس کا کھائے او منکر اور غُرائے او کافر
کون ہے دیتا او غادر اس کے سوا ہاں او فاجر
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
میں ہوں بندہ وہ مولیٰ کون ہے اپنا اس کے سوا
میں ہوں اس کا وہ ہے میرا جس نے بنایا اور پالا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
چار عناصر پیدا کیے جو سب آپس میں ضد تھے
ایک گرہ میں کیسے بندھے یکجا کیسے جمع ہوئے
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
آنکھوں میں وہ ہے سر میں وہ دل میں وہ ہے جگر میں وہ
سَمع میں وہ ہے بَصَر میں وہ طبع میں وہ ہے فکر میں وہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
نور میں وہ ہے نظر میں وہ شمس میں وہ ہے قمر میں وہ
ابر میں وہ ہے گُہر میں وہ کوہ میں وہ ہے حجر میں وہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
پروانہ میں ہے پر میں وہ شمع میں وہ ہے شر میں وہ
داء و دوا و اثر میں وہ نفع میں وہ ہے ضرر میں وہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
تُخم میں وہ ہے شجر میں وہ
شاخ میں وہ ہے ثمر میں وہ
ماہ میں وہ ہے بدر میں وہ
بحر میں وہ ہے بر میں وہ
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
سوز میں وہ ہے ساز میں وہ
ناز میں وہ انداز میں وہ
حسنِ بتِ طنّاز میں وہ
عشق کے راز و نیاز میں وہ
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
تو میں وہ ہے مَن میں وہ
جان میں وہ ہے تَن میں وہ
آبادی میں ہے بَن میں وہ
سر میں وہ ہے عَلَن میں وہ
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
جُز میں وہ ہے کُل میں وہ
رنگ و بوئے گُل میں وہ
افغانِ بُلبل میں وہ
نغماتِ قُل قُل میں وہ
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
قُرب و لِقا و وَصل میں وہ
بُعد و فراق و فَصل میں وہ
فرض میں وہ ہے نفل میں وہ
اَصل میں وہ ہے نقل میں وہ
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
فَتح و ضَم و جَر میں وہ
پیش و زیر و زَبر میں وہ
ایں و آن و دِگر میں وہ
اس میں اس میں ہر میں وہ
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
بُلبُل طوطی پروانہ
ہر اِک اس کا دیوانہ
قُمرِی کس کا مستانہ
کون چکور کا جانانہ
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
شمع و گُل و صَر و صَرّات
ہیں مِرآتِ لحاظِ ذات
ورنہ ہیہات و ہیہات
پوچھتا کوئی ان کی بات
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
خود گُل کوزہ و کوزہ گر
خود کوزہ و خود کوزہ بر
قولِ رومی کر باور
ایماں ہے اے گورہ کر
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
جلوے اس کے ہیں ہر جا
ذات ہے اس کی جاے ورا
قدرت سے وہ ان میں ہوا
ذات میں ہے وہ سب سے جدا
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
نِت نئے جلوے ہیں ہر آن
کُلُّ یَومٍ ہُوَ فِی شَأن
خود ہی درد و خود درماں
خود ہی دست و خود داماں
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
ہر دل میں ہے اس کی لگن
آنکھوں میں وہ نورِ افگن
کیا صحرا اور کیا گلشن
مہرِ وجود کی ایک کرن
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُولِ اللہ
سرو و سنبل اور سمن شمشاد و صنوبر اور سوسن
نرگس نسریں سارا چمن اس کی ثنا میں نغمہ زن
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
مولیٰ دل کا زنگ چھڑا قلبِ نوری پائے جلا
دل کو کردے آئینہ جس میں چمکے یہ کلمہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
اپنے کرم سے ربِ کریم ہم پہ کیا احسانِ عظیم
بھیجا ہم میں بفضلِ عمیم بحرِ کرم کا دُرِ یتیم
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
اپنے مظہرِ اوّل کو اپنے حبیبِ اجمل کو
پہلے نبیِ افضل کو پچھلے مُرسلِ اکمل کو
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
وہ جنہیں اَنفس فرمایا بہتر برتر اَعلیٰ کیا
وہ رتبہ ان کو بخشا کوئی نہیں جو پاسکتا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ایسی فضیلتیں ان کو دیں جن کا مثلِ امکاں میں نہیں
رُوحِ رواںِ خُلد بریں نخلِ جہاں کے اَصلِ متیں
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
نائبِ حضرتِ حق متیں شاہنشاہِ چرخ و زمیں
والیِ تختِ عرشِ بریں راحتِ جاں و قلبِ حزیں
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
موجِ اَوّل بحرِ قدم موجِ آخر بحرِ کرم
سب سے اَعلیٰ اور اَعظم سب سے اَولیٰ اور اَکرم
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
جن کو بنایا اپنے لیے سب کو بنایا جن کے لیے
کب انہیں دے کے اُن سے لیے پر سب چھوڑے تیرے لیے
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
نور سے اپنے پیدا کیا نورِ حبیبِ ربِ علا
پھر اس نور کو حصے کیا ان سے بنایا جو ہے بنا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ذاتِ کا اپنی آئینہ بے مثل و نظیر و بے ہمتا
خلق کیا قبل از اشیا اور نبوت کر دی عطا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
جب حق کو ہوا یہ منظور عالم پر فرمائے ظہور
ہو خود معروف و مذکور جلبابِ خفا کر دے دور
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَمُنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
قالبِ آدم خلق کیا، روح در آئے حکم ہوا
روح در آئی جب دیکھا، پتلے میں ہے نورِ خدا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
آدم و عالم پیدا ہوئے، نور سے سارے ہویدا ہوئے
جو جو اس پر شیدا ہوئے، رب کے وہی گرویدہ ہوئے
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
لوحِ جبیں سیدنا، آدم میں وہ نورِ خدا
جب طالع ہوا تو ان کا، طالعِ قسمت بھی چمکا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
نورِ خدا کی برکت تھی، رہنے کو جنت پائی
ندرتِ دولتِ علم ملی، اور آدم ہوئے حق کے نبی
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
حق نے علمِ اسما دیا، جو نہ ملائک کو بخشا
وہ ملکہ فرمایا عطا، ان پر ان کو غلبہ دیا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
آدم کو شرف ایسا ملا، آدمی اشرفِ خلق ہوا
ان کو خلیفہِ حق نے کیا، تاجِ کرامت سر پہ رکھا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
واسطہ یہ اس نور کا تھا، حضرتِ انسان قبلہ بنا
سارے فرشتوں نے سجدہ کیا، پیشِ صَفِیُّ اللہ کیا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
پاک گروہِ مقدس کا، ایک علامہ معلم تھا
قوم جن سے تھا پیدا، تھا اسے غرۂِ عبادت کا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
جب سجدہ کا حکم ہوا، سب نے کیا اس نے نہ کیا
اور متکبر نے یہ بکا، یہ مٹی میں انگارا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
اس کو آب و گل سوجھا، منکر ہو کر شیطان بنا
جن کے سبب وہ حکم ہوا، اس نے وہ نور نہیں دیکھا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
یاری جو نور نہیں کرتا، دیکھتے کیسے فوقِ سما
نامِ حبیب و نامِ خدا، ساقِ عرش پہ لکھا ہوا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
جوش پہ آیا رحم کا دریا، جب سیدنا آدم نے دیا
واسطہ اس نورِ خدا کا، مقبول ہوئی یوں توبہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَمَّنَا بِرَسُوْلِ اللہ
جب حضرت کا جی نہ لگا تنہائی سے گھبرا اٹھا
دل جمی کے لیے ہوا خلق کی بے مثل و ہمتا
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
حوا سے جب آدم کا عہد مہر درود ہوا
آدم سے وہ نور خدا زوجہ کو تفویض ہوا
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
پیشانیِ شیث میں آیا صلبوں رحموں میں ہوتا
پیشانیِ نوح میں آیا پھر ایسے ہی آگے بڑھا
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
حضرت نوحِ نجئ اللہ آدمِ ثانی عالم کا
یار نہ گر یہ نور ہوتا ان کا سفینہ کب ترتا
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ابراہیم خلیل اللہ آگ میں جن کو ڈالا گیا
ان کا حامی نور ہوا نار کا بقعہ باغ بنا
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
طاہر صلبوں میں ہوتا پاک ارحام میں رہتا ہوا
ہونا چاہا جلوہ نما بطنِ آمنہ میں آیا
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
آمنہ نے یہ فرمایا حمل کی کلفت تھی نہ ذرا
جتنا قریں از وضع ہوا میں سنتی زیادہ مرحبا
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ماہِ اوّل میں آدم دوسرے میں ادریسِ افخم
تیسرے میں نوحِ اکرم چوتھے میں خلیلِ ارحم
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
پانچویں میں اسمعیل چھٹویں میں کلیمِ جلیل
ساتویں میں داؤدِ جمیل ہشتم میں سلیمانِ جلیل
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
ماہِ نہم حضرتِ عیسیٰ آئے مجھ کو مژدہ دیا
اس مولودِ مبارک کا اور رُوح اللہ نے بھی کہا
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
سن لو جب یہ نورِ خدا پیدا ہو تو تم اس کا
نامِ پاک احمد رکھنا صَلَّی عَلَیْہِ دَائِمَا
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
اور کسی نے یہ بھی کہا خواب میں مجھ سے آمنہ
پیٹ میں تیرے اُمت کا سردار ہے اللہ اللہ
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
پیٹ میں تھے جب یہ سرکار اس سے پہلے کے اذکار
خشک تھے سب برگ و اشجار سوکھ گئے تھے اب اثمار
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
بے ساز و برگ کے سوا کوئی پھلا اور پھولا نہ تھا
بطن میں جلوہ فرما تھا جب کہ ہوا وہ نورِ خدا
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
قوم مصائب کی تھی شکار اور آفتوں سے تھی دوچار
اور ظلموں کی تھی بھرمار ایک کو اِک کرتا ناچار
لا اِلہَ اِلَّا اللہ اَمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
جور و جفا تھا ان کا شعار نیتیں رکھتے تھے وہ خوار
(ناتمام)
امانتِ رسول نوری غفرلہ