عمل سب سے بڑا طاعت حبیبِ کبریا کی ہے
ہے ایمان نام جس کا وہ محبتِ مصطفیٰ کی ہے
تمہارے دشمنوں پر تا اَبد لعنت خدا کی ہے
جو عبد المصطفیٰ ہے اس پہ رحمت کبریا کی ہے
ترے یاروں نے تجھ پر جان تک اپنی فدا کی ہے
اسی باعث سے شہرت چار یارِ باصفا کی ہے
کہیں مُزَّمِّل و مُدَّثِّر و طٰہٰ کہیں یٰسین
ترے مولیٰ نے قرآں میں تیری کیا کیا ثنا کی ہے
زہے شانِ جلالت جب چلے معراج کو مولیٰ
تو اقصیٰ میں رسولوں نے انہیں کی اقتدا کی ہے
نہ پھیرا ہے کبھی خالی مرادیں دی ہیں منہ مانگی
تمہارے آستاں پر جس گدا نے التجا کی ہے