عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
جان مُراد اب کدھر ہائے ترا مکان ہے
بزمِ ثنائے زُلف میں میری عروسِ فکر کو
ساری بہارِ ہشت خلد چھوٹا سا اِک مر دان ہے
عرش پہ جا کے مرغِ عقل تھک کے گرا غش آ گیا
اور ابھی منزلوں پَرے پہلا ہی آستان ہے
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام
کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دوجہان کی
اُنس کا اُنس اُسی سے جان کی وہ ہی جان ہے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے