Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Aye Kaash! Shab-e-Tanhai Mein Furqat Ka Alam Tarpata Rahe

اے کاش! شبِ تنہائی میں فرقت کا الم تڑپاتا رہے

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
اے کاش! شبِ تنہائی میں، فرقت کا الم تڑپاتا رہے لمحہ لمحہ کی آگ کو اور بھی بھڑکاتا رہے بے تاب جگر، قلبِ مضطر، دے دیجئے سرور! چشمِ تر ہر وقت بھروں ٹھنڈی آہیں، غم تیرا خون رلاتا رہے بے چین رہوں بے تاب رہوں، میں ہچکیاں باندھ کے روتا رہوں یہ ذوقِ جنوں بڑھتا ہی رہے، ہر دم یہ مجھ کو رُلاتا رہے میں عشق میں یوں گم ہو جاؤں، ہرگز نہ پتا اپنا پاؤں جب جب میں تڑپ کر گر جاؤں، ترا دستِ عنایت اٹھاتا رہے جب آؤں مدینے روتا ہوا، ہو سامنے جب روضہ تیرا چہرے سے نقاب اُٹھ جائے اور تُو جامِ دید پلاتا رہے بے کس ہوں شہا! میں دکھیارا، لوگوں نے مجھے ہے دھتکارا تُو ہمدم ہے پھر کیا غم ہے، گو سارا جہاں ٹھکراتا رہے