Home/Allama Hasan Raza Khan/Baharon par hain aaj aarayishein gulzar-e-jannat ki

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواری جراحت کی فضا ہر زخم کی دامن سے وابستہ ہے جنت کی گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں اُمت کی کوئی تقدیر تو دیکھے اسیرانِ مصیبت کی شہیدِ ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیونکر ہو ہوا میں آتی ہیں اُن کھڑکیوں سے باغِ جنت کی کرم والوں نے در کھولا تو رحمت نے سماں باندھا کمر باندھی تو قسمت کھول دی فضلِ شہادت کی علی کے پیارے خاتونِ قیامت کے جگر پارے زمیں سے آسماں تک دھوم ہے ان کی سیادت کی زمیں کربلا پر آج مجمع ہے حسینوں کا جہی ہے انجمن روشن ہیں شمعیں نورِ ظلمت کی یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونک دیں اپنے فدائی کو یہ وہ شمعیں نہیں رو کر جو کاٹیں رات آفت کی یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جانِ تازہ پائیں پروانے یہ وہ شمعیں ہیں جو گزاریں شبِ مصیبت کی یہ وہ شمعیں نہیں جن سے فقط اک گھر منوّر ہو یہ وہ شمعیں ہیں جن سے روح ہو کافور ظلمت کی دلِ حور و ملائک رہ گیا حیرت زدہ ہو کر کہ بزمِ گل رُخاں میں لے بلائیں کس کی صورت کی جدا ہوتی ہیں جانیں جسمِ جاناں سے ملتے ہیں ہوئی ہے کربلا میں گرم مجلس وصل و فرقت کی اسی منظر پہ ہر جانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں اسی عالم کو آنکھیں تک رہی ہیں ساری خلقت کی نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکے نکل آتی زمین کربلا سے نہر جنت کی مگر مقصود تھا پیاسا گلا ہی ان کو کٹوانا کہ خواہش پیاس سے بڑھتی رہے رویت کے شربت کی شہیدِ ناز رکھ دیتا ہے گردن آبِ خنجر پر جو موجیں بازو پر آ جاتی ہیں دریائے اُلفت کی یہ وقتِ زخم نکلا خوں اچھل کر جسمِ اطہر سے کہ روشن ہو گئی مشعل شبستانِ محبت کی سرِ بے تن تنِ آسانی کو شہرِ طیبہ میں پہنچا تنِ بے سر کو سرداری ملی ملکِ شہادت کی حسنؔ سنی ہے پھر افراط و تفریط اس سے کیوں کر ہو ادب کے ساتھ رہتی ہے روش اربابِ سنت کی