Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Baleqeen us ko to jeenay ka qareena aa gaya

Baleqeen us ko to jeenay ka qareena aa gaya

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
بالیقیں اُس کو تو جینے کا قرینہ آ گیا جس کے لب پر ہر گھڑی ذکرِ مدینہ آ گیا ساحلِ جدّہ پہ لو اپنا سفینہ آ گیا جھوم جاؤ عاشقو! میٹھا مدینہ آ گیا خوب مچلو جھومو اور خاک اُٹھا کر چوم لو لو وہ مکہ آ گیا دیکھو مدینہ آ گیا غم غلط ہو جائیں گے بس مسکرا کے دیکھ لو غم کا مارا در پہ یاشاہِ مدینہ آ گیا پاؤں میں جوتا ارے! محبوب کا کوچہ ہے یہ ہوش کر تو ہوش کر غافل! مدینہ آ گیا رنج و غم کے ماروں کے دل میں ہوک سی اٹھنے لگی قافلے طیبہ چلے حج کا مہینا آ گیا مجھ کو روتا چھوڑ کر سب قافلے والے چلے لوٹ کر میں غمزدہ، شاہِ مدینہ آ گیا موج ہر بھری ہوئی ہے اب خدایا آئیے! گردشِ طوفان میں اپنا سفینہ آ گیا کس قدر ہے بامقدر وہ مسلماں بھائیو! خواب میں جس کو نظر شاہِ مدینہ آ گیا اک تبسم ریز ہونٹوں کی جھلک دکھلائے جاں بَلَب کے اب تو ماتھے پر پسینہ آ گیا ٹل گیا مجھ سے عذاب اور قبر روشن ہو گئی قبر میں میری شہنشاہِ مدینہ آ گیا شافعِ محشر! مری امداد کو اب آیئے! حشر میں بارِ گنہ لے کر کمینہ آ گیا کیوں نہ رشک اُس پر کریں پھر یہ جہاں کے تاجدار ہاتھ جس کے عشقِ احمد کا خزینہ آ گیا عرض رو رو کر کروں گا جب مدینے جاؤنگا یا نبی در پر گنہگار و کمینہ آ گیا آپ کے لطف و کرم سے کہہ اُٹھے عطار کاش! دلِ مدینہ ہو گیا دل میں مدینہ آ گیا