Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Bulawa dobara phir ek baar aaye

Bulawa dobara phir ek baar aaye

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
بُلا وا دوبارہ پھر اک بار آئے مدینے میں آقا! گنہگار آئے مرے اشک بننے لگیں کاش اُس دم نظر ہوں ہی طیبہ کا گلزار آئے دلِ مُضطرِب کی بڑھے بیقراری تڑپ کر کروں ہوں ہی دربار آئے نظر میں نہیں کوئی جچتا گلستاں پسند اس کو صحرائے سرکار آئے ہے اپنی جگہ حُسن پھولوں کا لیکن پسند اس کو طیبہ ہی کا خار آئے محلّات اونچے نہیں چاہتا میں مدینے کا قسمت میں گہسار آئے عقیدت سے سر جھک گیا اُس گھڑی جب نظر سبز گُنبَد کے انوار آئے ترے سبز گُنبَد پہ جائے وہ قرباں مدینے میں جو کوئی اک بار آئے تمہاری شفاعت کا حقدار ٹھہرے جو دربار میں بخت بیدار آئے ترے ہی کرم سے ہمارا بھرم ہے گناہوں کا سر پر لئے بار آئے عطا ہو سندِ مغفرت کی عطا ہو ترے دَر پہ تیرے گنہگار آئے اِدھر بھی مسیحا نگاہِ شِفا ہو ترے دَر پہ عِصیاں کے بیمار آئے گناہوں کی کثرت سے گھبرائے جب وہ محشر میں سوئے گنہگار آئے ہوئی قبر روشن اُسی دم لئے جب وہ چہرہ وہ چمکدار آئے پئے پیر و مرشد ہمیں اپنا کہدو یہ ہم آرزو لے کے دربار آئے شہاب تجھ سے تجھ ہی کو مانگیں گے ہم تو ترے در پہ جس روز سرکار آئے دوا ہر مرض کی ہے خاکِ مدینہ شفا پائے در پر جو بیمار آئے سرِ حشر دامن میں لیں گے اُسے جو ندامت سے روتا گنہگار آئے ترے عشق میں ایسا ہو جاؤں بے خود کبھی ہوش مجھ کو نہ سرکار آئے اشارہ ملے کاش! جنت کا فوراً سرِ حشر جس دم یہ بدکار آئے نگاہِ کرم ہو کرم جانِ عالم دلِ غم زدہ لے کے غمخوار آئے سدا سُنتیں عام کرتا رہوں میں اسی حال میں موت سرکار آئے پئے شاہِ کرب و بلا موت مجھ کو مدینے کی گلیوں میں سرکار آئے سب اسلامی بہنوں کو پردہ عطا ہو نہ پاس ان کے ابلیسِ عیّار آئے سب اسلامی بھائی بھی فیشن سے بھاگیں شہاب! سُنتوں پر انہیں پیار آئے بلالو مدینے میں شاہِ مدینہ تڑپتا ہوا کاش! بدکار آئے ترے غم میں بے حال ہو جائے آقا پلٹ کے جو طیبہ سے عطار آئے