Home/Mustafa Raza Khan Qadri/Chara Gar Hai Dil To Ghayal Ishq Ki Talwar Ka

Chara Gar Hai Dil To Ghayal Ishq Ki Talwar Ka

Written by Mustafa Raza Khan Qadri

100%
چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا کیا کروں میں لے کے پھاہا مَرہمِ زَنگار کا رُو کشِ خُلدِ بریں ہے دیکھ کوچہ یار کا حیف بلبل اب اگر لے نام تو گلزار کا حُسن کی بے پردگی پردہ ہے آنکھوں کے لیے خود تجلّی آپ ہی پردہ ہے رُوئے یار کا حُسن تو بے پردہ ہے پردہ ہے اپنی آنکھ پر دل کی آنکھوں سے نہیں ہے پردہ رُوئے یار کا اِک جھلک کا دیکھنا آنکھوں سے گوممکن نہیں پھر بھی عالَم دل سے ہے طالب ترے دیدار کا تیرے باغِ حُسن کی رونق کا کیا عالَم کہوں آفتاب اِک زرد پتا ہے ترے گلزار کا کب چمکتا یہ ہلالِ آسماں ہر ماہ یوں جو نہ ہوتا اس پہ پرتو ابروئے سرکار کا جاگ اُٹھی سوئی قسمت اور چمک اُٹھا نصیب جب تصور میں سمایا رُوئے اَنور یار کا حسرتِ دیدارِ دل میں اور آنکھیں بہہ چلیں تو ہی والی ہے خدایا دیدۂ خوں بار کا بھیک اپنے مرہمِ دیدار کی کر دو عطا چاہیے کچھ مُنہ بھی کرنا زخمِ دامن دار کا کامِ نیشتر کا کیا ناصح نصیحت نے تری چیر ڈالا اور دامن زخم دامن دار کا یوں ہی کچھ اچھا مَداوا اس کا ہوگا بنیگر چاک کر ڈالوں گریباں زخمِ دامن دار کا آ سرِ بالیں من بر خیز اے ناداں طبیب ہو چکا تجھ سے مَداوا عشق کے بیمار کا فتنے جو اُٹھے مٹا ڈالے رُوش نے آپ کی کیوں نہ ہو دشمن بھی قائل خوبیِ رفتار کا چوکڑی بھولا بُراقِ بادپا یہ دیکھ کر ہے قدم دوشِ صبا پر اس سُبک رفتار کا کوئی دَم کی دیر ہے آتے ہیں دَم کی دیر ہے اب چمکتا ہے مقدر طالبِ دیدار کا جب گراں میں بے خودی میں ان کے قدموں پر گرا کام تو میں نے کیا اچھے بھلے ہشیار کا آبلہ پا چل رہا ہے بے خودی میں سر کے بل کام دیوانہ بھی کرتا ہے کبھی ہشیار کا آبلوں کے سب کٹورے آہ خالی ہو گئے منہ ابھی تر بھی نہ ہونے پایا ہر خار کا آبلے کم مائیگی پر اپنی روئیں رات دن سوکھ کر کانٹا ہوا دیکھیں بدن ہر خار کا وا اسی برتے پہ تھا یہ ٹٹھا پانی واہ واہ پیاس کیا بجھتی دہن بھی تر نہیں ہر خار کا پاؤں میں چبھتے تھے پہلے اب تو دل میں چبھتے ہیں یاد آتا ہے مجھے رہ رہ کے چبھنا خار کا پاؤں کیا میں دل میں رکھ لوں پاؤں جو طیبہ کے خار مجھ سے شوریدہ کو کیا کھٹکا ہو نوکِ خار کا راہ پر کانٹے بچھے ہیں کانٹوں پر چلنی ہے راہ ہر قدم ہے دل میں کھٹکا اس رہِ پُر خار کا خارِ گل سے دہر میں کوئی چمن خالی نہیں یہ مدینہ ہے کہ ہے گلشن گلِ بے خار کا گل ہو صحرا میں تو بلبل کے لئے صحرا چمن گل نہ ہو گلشن میں تو گلشن ہے اک بَن خار کا گل سے مطلب ہے جہاں ہو عندلیبِ زار کو گل نہ ہو تو کیا کرے بلبل کہو گلزار کا پھر سے ہو جائے نہ عالم میں کہیں طوفانِ نوح لو ابلتا ہے سمندر اپنی چشمِ زار کا دھجیاں ہو جائے دامنِ فردِ عصیاں کا مری ہاتھ آجائے جو گوشہ دامنِ دلدار کا کوثر و تسنیم سے دل کی لگی بجھ جائے گی میں تو پیاسا ہوں کسی کے شربتِ دیدار کا آئینہ خانہ میں اُن کے تِج سے صدہا مہر ہیں مہر کس منہ سے کیا ہے حوصلہ دیدار کا جلوہ گاہِ خاص کا عالم بتائے کوئی کیا مہرِ عالم تاب ہے ذَرّہ حریمِ یار کا ہفت کشور ہی نہیں چودہ طبق روشن کئے عرش و کرسی لامکاں پر بھی ہے جلوہ یار کا زرد رُو کیوں ہو گیا خورشیدِ تاباں سچ بتا دیکھ پایا جلوہ کیا اس مطلعِ انوار کا ہفت کشور ہی نہیں چودہ طبق زیرِ نگیں عرش و کرسی لامکاں کس مرے سرکار کا یہ مہ و خُور یہ ستارے چرخ کے فانوس ہیں شمعِ روشن میں ہے جلوہ ترے رخسار کا مرقدِ نوری پہ روشن ہے یہ لعلِ شب چراغ یا چمکتا ہے ستارہ آپ کی پیزار کا