Home/Allama Hasan Raza Khan/Chashm-e-Dil Chahe Jo Anwar Se Rabt

چشمِ دِل چاہے جو انوار سے ربط

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
چشمِ دِل چاہے جو انوار سے ربط رکھے خاکِ درِ دلدار سے ربط اُن کی نعمت کا طلبگار سے میل اُن کی رحمت کا گنہگار سے ربط دشتِ طیبہ کی جو دیکھے آئیں بہار ہو عنادل کو نہ گلزار سے ربط یا خدا دِل نہ ملے دنیا سے نہ ہو آئینہ کو زنگار سے ربط نفس سے میل نہ کرنا اے دل قہر ہے ایسے ستمگار سے ربط دِلِ نجدی میں ہو کیوں حُبِّ حُضور ظُلمتوں کو نہیں انوار سے ربط تلخئِ نزع سے اس کو کیا کام ہو جسے لعلِ شکر بار سے ربط خاکِ طیبہ کی اگر مل جائے آپ صِحّت کرے بیمار سے ربط ان کے دامانِ گہر بار کو ہے کاسۂِ دستِ طلبگار سے ربط گل ہے اجلاس کا دن اور ہمیں میلِ عملہ سے نہ دربار سے ربط عُمر یوں ان کی گلی میں گزرے ذرّہ ذرّہ سے بڑھے پیار سے ربط سَرِ شوریدہ کو ہو در سے میل کمرِ خستہ کو دیوار سے ربط اے حُسن خیر ہے کیا کرتے ہو یار کو چھوڑ کر اغیار سے ربط وہ کون ہے جو نہیں فیضیاب اس دَر سے سبھی ہیں بندۂ احسانِ بارگاہِ رفیع نوازے جاتے ہیں ہم سے نمک حرامِ غلام ہماری جان ہو قربانِ بارگاہِ رفیع مُطیعِ نفس ہیں وہ سرکشِ جن و بشر نہیں جو تابعِ فرمانِ بارگاہِ رفیع صلائے عام ہے مہماں نواز ہیں سرکار کبھی اُٹھا ہی نہیں خوانِ بارگاہِ رفیع جمالِ شمس و قمر کا سنگھار ہے شب و روز فروغِ شمعِ ایوانِ بارگاہِ رفیع ملائکہ ہیں فقط دابِ سلطنت کے لئے خدا ہے آپ نگہبانِ بارگاہِ رفیع حُسنِ جلالتِ شاہی سے کیوں جھکتا ہے گدا نواز ہے سلطانِ بارگاہِ رفیع