دشمنانِ دین کو کر دو تباہ
عرض تم سے حیدرِ کرار ہے
دامنِ احمد رضا مجھ کو ملا
ہاں یہ اِنعامِ شہِ ابرار ہے
ہوں ضیاء الدین کا ادنیٰ گدا
میرے مرشد کا سخی دربار ہے
تم کو کچھ معلوم ہے یارو! مجھے
دعوتِ اسلامی سے یوں پیار ہے
ہے کرم اِس پر خدائے پاک کا
دعوتِ اسلامی سے یوں پیار ہے
اِس پہ ہے نظرِ کرم سرکار کی
دعوتِ اسلامی سے یوں پیار ہے
بے عَدَد کافر مسلماں ہو گئے
دعوتِ اسلامی سے یوں پیار ہے
بے نمازی بھی نمازی ہو گئے
دعوتِ اسلامی سے یوں پیار ہے
چور ڈاکو آئے اور تائب ہوئے
دعوتِ اسلامی سے یوں پیار ہے
زانی و قاتل بھی تائب ہو گئے
دعوتِ اسلامی سے یوں پیار ہے
اور شرابی آئے تائب ہو گئے
دعوتِ اسلامی سے یوں پیار ہے
سنتوں کی ہر طرف آئی بہار
دعوتِ اسلامی سے یوں پیار ہے
بخنوانا آپ ہی عطار کو
سب گنہگاروں کا یہ سردار ہے