Home/Allama Hasan Raza Khan/Dil Mera Dunya Pe Shaida Ho Gaya

دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا اے مرے اللہ یہ کیا ہوگیا کچھ مرے بچنے کی صورت کیجئے اب تو جو ہونا تھا مولیٰ ہوگیا عیب پوشِ خلق دامن سے ترے سب گنہگاروں کا پردہ ہوگیا رکھ دیا جب اس نے پتھر پر قدم صاف اک آئینہ پیدا ہوگیا دور ہو مجھ سے جو اُن سے دور ہے اس پہ میں صدقے جو اُن کا ہوگیا گرمیِ بازارِ مولیٰ بڑھ چلی نرخِ رحمت خوب سستا ہوگیا دیکھ کر اُن کا فروغِ حُسنِ پا گہرِ ذرہ چاند تارا ہوگیا رَبِّ سَلِّم وہ ادھر کہنے لگے اس طرف پار اپنا بیڑا ہوگیا ان کے جلووں میں ہیں یہ دلچسپیاں جو وہاں پہنچا وہیں کا ہوگیا تیرے ٹکڑوں سے پلے دونوں جہاں سب کا اس در سے گزارا ہوگیا اَلسَّلَام اے ساکنانِ کوئے دوست ہم بھی آتے ہیں جو ایما ہوگیا اُن کے صدقہ میں عذابوں سے چھٹے کام اپنا نام اُن کا ہوگیا سر وہی جو اُن کے قدموں سے لگا دل وہی جو اُن پہ شیدا ہوگیا حُسنِ یوسف پر زُلیخا مٹ گئیں آپ پر اللہ پیارا ہوگیا اس کو شیروں پر شرف حاصل ہوا آپ کے در کا جو کتا ہوگیا زاہدوں کی خلد پر کیا دھوم تھی کوئی جانے گھر یہ اُن کا ہوگیا غول اُن کے عاصیوں کے آئے جب چھٹ گئی سب بھیڑ رستہ ہوگیا جا پڑا جو دشتِ طیبہ میں حسنؔ گلشنِ جنت گھر اس کا ہوگیا دو عالم مہماں تو میزبان خوان کرم جاری ادھر بھی کوئی ٹکڑا میں بھی شھتا ہوں ترے در کا نہ گھر بیٹھے ملے جوہر صفا و خاکساری کے مرید ذرہ طیبہ ہے آئینہ سکندر کا اگر اس خندہ دنداں نما کا وصف موزوں ہو ابھی لہرا چلے بحر سخن سے چشمہ گوہر کا ترے دامن کا سایہ اور دامن کتنے پیارے ہیں وہ سایہ دشتِ محشر کا یہ حامی دیدہ تر کا تمہارے کوچہ و مرقد کے زائر کو میسر ہے نظارہ باغِ جنت کا تماشہ عرشِ اکبر کا گنہگارانِ امت ان کے دامن پر مچلتے ہوں الہی چاک ہو جس دم گریباں صبحِ محشر کا ملائک جن و انساں سب اسی در کے سلامی ہیں دو عالم میں ہے اک شہرہ مرے محتاجِ پرور کا الہی تشنہ کام ہجر دیکھے دشتِ محشر میں برستا ابرِ رحمت کا چھلکنا حوضِ کوثر کا