Home/Allama Hasan Raza Khan/Dushman Hai Gale Ka Haar Aaqa

دشمن ہے گلے کا ہار آقا

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
دشمن ہے گلے کا ہار آقا لُٹتی ہے مری بہار آقا تم دل کے لیے قرار آقا تم راحتِ جانِ زار آقا تم عرش کے تاجدار مولیٰ تم فرش کے باوقار آقا دامن دامن ہوائے دامن گلشن گلشن بہار آقا بندے ہیں گنہگار بندے آقا ہے کرم شعار آقا اس شان کے ہم نے کیا کسی نے دیکھے نہیں زینہار آقا بندوں کا اَلَم نے دل دکھایا اور ہوگئے بے قرار آقا آرام سے سوئیں ہم کمینے جاگا کریں باوقار آقا ایسا تو کہیں سُنا نہ دیکھا بندوں کا اٹھائیں بار آقا جن کی کوئی بات تک نہ پوچھے ان پر تمھیں آئے پیار آقا پاکیزہ دلوں کی زینتِ ایماں ایمان کے تم سنگار آقا صدقہ جو بنے کہیں سلاطیں ہم بھی ہیں امیدوار آقا چکراگئی ناؤ بے کسوں کی آنا مرے غمگسار آقا اللہ نے تم کو دے دیا ہے ہر چیز کا اختیار آقا ہے خاک پہ نقش پا تمہارا آئینہ بے غبار آقا عالم میں ہیں سب بنی کے ساتھی بگڑی کے تمہیں ہو یار آقا سرکار کے تاجدار بندے سرکار ہیں تاجدار آقا دے بھیک اگر جمال رنگیں جنت ہو مرا مزار آقا آنکھوں کے کھنڈر بھی اب بسادو دل کا تو ہوا وقار آقا ایمان کی تاک میں ہے دشمن آؤ دَمِ اختصار آقا ہو شمعِ شبِ جناں بیاں تیرا رُخِ نورِ بار آقا تو رحمتِ بے حساب کو دیکھ جُرموں کا نہ لے شمار آقا دیدار کی بھیک کب ملے گی منگتا ہے امیدوار آقا بندوں کی ہنسی خوشی میں گزرے اس غم میں ہوں اشکبار آقا آتی ہے مدد بلا سے پہلے کرتے نہیں انتظار آقا سایہ میں تمہارے دونوں عالم تم سایہ کردگار آقا جب فوجِ اَلَم کرے چڑھائی ہو اوجِ کرم حصار آقا ہر ملکِ خدا کے سچے مالک ہر مُلک کے شہریار آقا میری طاعت سے میرے جرم فزوں لطف سب سے بڑھا ہوا تیرا خوفِ وزنِ عمل کسے ہو ہے دل مدد پر تلا ہوا تیرا کام بگڑے ہوئے بنا دینا کام کس کا ہوا ہوا تیرا ہر ادا دل نشیں بنی تیری ہر سخن جاں فزا ہوا تیرا آشکارا کمالِ شانِ حضور پھر بھی جلوہ چھپا ہوا تیرا پردہ دارِ ادا ہزار حجاب پھر بھی پردہ اٹھا ہوا تیرا بزمِ دنیا میں بزمِ محشر میں نام کس کا ہوا ہوا تیرا مَنْ رَّانِیْ فَقَدْ رَاَی الْحَقَّ حسن یہ حق نما ہوا تیرا بارِ عصیاں سروں سے پھینکے گا پیشِ حق سر جھکا ہوا تیرا یم جود و حضور پیاسا ہوں یم گھٹا سے بڑھا ہوا تیرا وصل وحدت پھر اُس پہ یہ خلوت تجھ سے سایہ جدا ہوا تیرا صنعِ خالق کے جتنے خاکے ہیں رنگ سب میں بھرا ہوا تیرا ارضِ طیبہ قدومِ والا سے ذرہ ذرہ سما ہوا تیرا اے جناں میرے گل کے صدقے میں تختہ تختہ بسا ہوا تیرا اے فلک مہرِ حق کے باڑے سے کاسہ کاسہ بھرا ہوا تیرا اے چمن بھیک ہے تبسم کی غُنچہ غُنچہ کھلا ہوا تیرا ذَرّہ کوئے حبیب اللہ رے تیرے نصیب پاؤں پڑ کر عرش کی آنکھوں کا تارا ہوگیا ترے صانع سے کوئی پوچھے ترا حُسن و جمال خود بنایا اور بنا کر خود ہی پیارا ہوگیا ہم کمینوں کا انہیں آرام تھا اتنا پسند غم خوشی سے دُکھ تہ دل سے گوارا ہوگیا کیوں نہ ہو تم مالکِ مُلکِ خدا مُلکِ خدا سب تمہارا ہے خدا ہی جب تمہارا ہوگیا روزِ محشر کے اَلم کا دشمنوں کو خوف ہو دُکھ ہمارا آپ کو کس دن گوارا ہوگیا جو اَزَل میں تھی وہی طَلعَت وہی تنویر ہے آئینہ سے یہ ہوا جلوہ دوبارہ ہوگیا تو ہی نے تو مِصر میں یوسف کو یوسف کر دیا تو ہی تو یعقوب کی آنکھوں کا تارا ہوگیا ہم بھکاری کیا ہماری بھیک کس گنتی میں ہے تیرے در سے بادشاہوں کا گزارا ہوگیا اے حُسن قربان جاؤں اس جمالِ پاک پر سینکڑوں پردوں میں رہ کر عالم آرا ہوگیا