غم کے ماروں پر کرم اے دو جہاں کے تاجدار
اپنے غم میں اپنی الفت میں رلاؤ زار زار
صدقے جاؤں مجھ سے عاصی پر شہِ کون و مکاں
بے عدد تیری عطائیں ہیں بے شمار
جو تڑپتے ہیں مدینے کی زیارت کے لیے
ان کو بھی آقا دکھا دو تم مدینے کی بہار
ہو مرا سینہ مدینہ تاجدارِ انبیاء
دل میں بس جائے ترا جلوہ شہِ عالی وقار
از پئے غوث و رضا مسکن مدینہ دو بنا
کاش ہو مدفن مدینہ از طفیلِ چار یار
گھومتے رہتے ہو تم آقا کی گلیوں میں سدا
تم پہ ہو جاؤں تصدق اے سگانِ کوئے یار
بلبلو تم کو مبارک پھول، پر میری نظر
میں مدینے کی حسیں وہ جھاڑیاں ہیں خار دار
آج کے اس سنتوں کے اجتماعِ پاک میں
جو بھی آیا بخش دے اس کو مرے پروردگار
کچھ تو کر احساس بھائی چھوڑ نافرمانیاں
غم میں آقا اپنی اُمت کے ہیں ہوتے بے قرار
میرے غیرت مند بھائی مت مُنڈا داڑھی کو تُو
یاد رکھ یہ دشمنانِ مصطفٰے کا ہے شعار
چھوڑ انگریزی طریقے اور فیشن چھوڑ دے
بھائی کر لے سنتوں سے خوب رشتہ استوار
دے شرف عطارؔ کو ہر سال حج کا یاخدا
ہر برس اس کو دکھا مٹھے مدینے کا دیار