گو ذلیل و خوار ہوں کر دو کرم
پر سگِ دربار ہوں کر دو کرم
یا رسول اللہ! رحمت کی نظر
حاضرِ دربار ہوں کر دو کرم
رحمتوں کی بھیک لینے کے لئے
حاضرِ دربار ہوں کر دو کرم
دردِ عصیاں کی دوا کے واسطے
حاضرِ دربار ہوں کر دو کرم
اپنا غم دو چشمِ نم دو دردِ دل
حاضرِ دربار ہوں کر دو کرم
آہ! پلے کچھ نہیں حُسنِ عمل!
مُفلس و نادار ہوں کر دو کرم
جذبہِ حُسنِ عمل ہے اور نہ عِلم
ناقص و بیکار ہوں کر دو کرم
عاصیوں میں کوئی ہم پلّہ نہ ہو!
ہائے وہ بدکار ہوں کر دو کرم
ہے ترقی پر گناہوں کا مرض
آہ! وہ بیمار ہوں کر دو کرم
تم گنہگاروں کے ہو آقا شفیع
میں بھی تو حق دار ہوں کر دو کرم
دولتِ اخلاق سے محروم ہوں
ہائے! بدگفتار ہوں کر دو کرم
آنکھ دے کر مدّعا پورا کرو
طالبِ دیدار ہوں کر دو کرم
دوست، دشمن ہو گئے یا مصطفیٰ
بیکس و ناچار ہوں کر دو کرم
کر کے توبہ پھر گنہ کرتا ہے جو
میں وہی عطار ہوں کر دو کرم