Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Gunahon Ki Nahoosat Barh Rahi Hai Dam-ba-dam Maula

Gunahon Ki Nahoosat Barh Rahi Hai Dam-ba-dam Maula

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
گناہوں کی نحوست بڑھ رہی ہے دم بدم مولیٰ میں توبہ پر نہیں رہ پا رہا ثابت قدم مولیٰ کمر ٹوڑی ہے عصیاں نے، دبایا نفس و شیطاں نے نہ کرنا حشر میں رُسوا، مرا رکھنا بھرم مولیٰ گناہوں نے مجھے ہائے! کہیں کا بھی نہیں چھوڑا کرم ہو از طفیلِ سیدِ غرب و عجم مولیٰ اندھیری قبر کا احساس ہے پھر بھی نہیں جاتیں گناہوں کی خدایا عادتیں، فرما کرم مولیٰ نہ کرنا حشر میں پُرسش مری ہو بے سبب بخشش عطا کر باغِ فردوس از پئے شاہِ اُمم مولیٰ گنہ کرتے ہوئے گر مر گیا تو کیا کروں گا میں بنے گا ہائے میرا کیا کرم فرما کرم مولیٰ خرد کرتی نہیں اب کام الہی! میں ہوا ناکام سمجھی سے التجا ہے مجھ پہ کر رحم و کرم مولیٰ مسلماں ہوں اگرچہ بد ہوں، سچے دل سے کرتا ہوں ترے ہر حکم کے آگے سرِ تسلیم خم مولیٰ تو ڈرا اپنا عنایت کر رہیں اس ڈر سے آنکھیں تر مٹا خوفِ جہاں دل سے مٹا دنیا کا غم مولیٰ تو بس رہنا سدا راضی، نہیں ہے تابِ ناراضی تو ناخوش جس سے ہو برباد ہے تیری قسم مولیٰ چلیں دنیا سے میں اُس شان سے اے کاش! یا اللہ شہِ ابرار کی چوکھٹ پہ سر ہو میرا خم مولیٰ سنہری جالیوں کے سامنے اے کاش! ایسا ہو نکل جائے رسولِ پاک کے جلووں میں دم مولیٰ عطا کر عافیت تو نزع و قبر و حشر میں یارب وسیلہ فاطمہ زہرا کا کر لطف و کرم مولیٰ الہی پل صراط اِک پل کے اندر پار کر جاؤں تو کر ایسی عنایت اپنے شاہِ حرم مولیٰ میں رحمت، مغفرت، دوزخ سے آزادی کا سائل ہوں مہِ رمضان کے صدقے میں فرمادے کرم مولیٰ براءت دے عذابِ قبر سے نارِ جہنم سے مہِ شعبان کے صدقے میں کر فضل و کرم مولیٰ عبادت میں، ریاضت میں، تلاوت میں لگا دے دل رجب کا واسطہ دیتا ہوں فرمادے کرم مولیٰ بنا مجھ کو محمدِ مصطفیٰ کا عاشقِ صادق تو دیدے سوزِ سینہ کر عنایت چشمِ نم مولیٰ نہیں درکار وہ خوشیاں، جو غفلت کا بنیں ساماں عطا کر اپنی الفت اپنے پیارے کا تو غم مولیٰ غمِ عشقِ نبی ایسا عطا فرما پئے مرشد ہو نعتِ مصطفیٰ سنتے ہی میری آنکھ نم مولیٰ بچیں بے کار باتوں سے پڑھیں اے کاش! کثرت سے ترے محبوب پر ہر دم دُرودِ پاک ہم مولیٰ ہماری فالتو باتوں کی عادت دُور ہو جائے لگائیں مستقل قفلِ مدینہ لب پہ ہم مولیٰ جسے نیکی کی دعوت دوں اُسے دیدے ہدایت تُو زباں میں دے اثر کر دے عطا زورِ قلم مولیٰ الہی ہر مبلغ پیکرِ اخلاص بن جائے کرم ہو دعوتِ اسلامی والوں پر کرم مولیٰ زمانے کے مصائب نے الہی گھیر رکھا ہے پئے شاہِ مدینہ دُور ہوں رنج و اَلم مولیٰ رسولِ پاک کی دکھیاری امت پر عنایت کر مریضوں، غمزدوں، آفت نصیبوں پر کرم مولیٰ پئے شاہِ مدینہ اب مشرف حج سے فرما دے چلیں عطار پھر روتا ہوا سوئے حرم مولیٰ