Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Hai Aaj Jashn-e-Wiladat-e-Nabi Ki Aamad Hai

ہے آج جشنِ ولادتِ نبی کی آمد ہے

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
ہے آج جشنِ ولادتِ نبی کی آمد ہے جلاؤ شمعِ مَحَبَّت نبی کی آمد ہے جہاں میں بجتی ہے نوبت نبی کی آمد ہے سُناؤ سب کو بشارت نبی کی آمد ہے ہوئی خدا کی عنایت نبی کی آمد ہے سجائے تاجِ شفاعت نبی کی آمد ہے گلوں پہ چھائی نَزاہت نبی کی آمد ہے چمن میں پھیلی ہے نکہت نبی کی آمد ہے ہے اِک عجیب سی فرحت نبی کی آمد ہے دلوں پہ طاری مسرّت نبی کی آمد ہے نہ کیوں ہو وجد میں قسمت نبی کی آمد ہے نہیں خوشی کی نہایت نبی کی آمد ہے الہیٰ! کرلوں زیارت نبی کی آمد ہے عطا ہو چشمِ بصیرت نبی کی آمد ہے ہے خوب بارشِ رحمت نبی کی آمد ہے نہالو پاؤ گے برکت نبی کی آمد ہے ہوا ہے وا درِ رحمت نبی کی آمد ہے خدا سے مانگ لو جنت نبی کی آمد ہے برائے رشد و ہدایت نبی کی آمد ہے سُنانے نیکی کی دعوت نبی کی آمد ہے عدو پہ چھائی ہے ہیبت نبی کی آمد ہے ملی ہے خاک میں نَحوت نبی کی آمد ہے بُتوں کی آگئی شامت نبی کی آمد ہے مٹے گی کفر کی ظلمت نبی کی آمد ہے خوشی کی آگئی ساعت نبی کی آمد ہے مناؤ جشنِ ولادت نبی کی آمد ہے سجاؤ گھر کو چراغاں کرو محلے میں مناؤ جشنِ ولادت نبی کی آمد ہے مچاؤ دھوم سبھی مرحبا کے نعروں کی مناؤ جشنِ ولادت نبی کی آمد ہے سجا دو کوچہ و بازار سبز جھنڈوں سے مناؤ جشنِ ولادت نبی کی آمد ہے پکارو زور سے دیوانو! یارسولَ اللہ ملے گی قلب کو راحت نبی کی آمد ہے اُٹھو ادب سے صلوٰۃ و سلام پڑھتے ہیں اب آیا وقتِ ولادت نبی کی آمد ہے پڑھو سلام کرودُوب کر مَحَبَّت میں دُرودِ پاک کی کثرت نبی کی آمد ہے کرم کے در ہیں کھلے جھوم کر برستی ہے خُدائے پاک کی رَحمت نبی کی آمد ہے کرو خدا سے دعائیں نہ ہوگی مایوسی کھلا ہے بابِ اجابت نبی کی آمد ہے ہے شاد مسلماں مگر عدو ناخوش بے ٹوٹی اس پہ قیامت نبی کی آمد ہے جُلوسِ جشنِ ولادت میں نعت کی دھومیں مچاؤ ہے یہ سعادت نبی کی آمد ہے خوشی سے آج تو لوٹوں گا خوب مچھلوں گا جہاں میں ماہِ رسالت نبی کی آمد ہے گھرِ آمنہ کے چلوچل کے عرض کرتے ہیں ہمیں ہو بھیک عنایت نبی کی آمد ہے اے غمزدہ! ہو مبارک کہ غم غلط ہونگے ملے گی اب تمہیں راحت نبی کی آمد ہے خوشی سے پھولے ساتے نہیں ہیں عُشّاق آج ہے چھائی رُخ پہ بشاشت نبی کی آمد ہے کرو گناہوں سے توبہ تو خوش خُدا ہوگا بہاؤ اشکِ ندامت نبی کی آمد ہے الہیٰ! جشنِ ولادت کا واسطہ ہم کو عذابِ قبر سے دے دے براءت نبی کی آمد ہے بڑھا کے کاسۂ دل آج مانگ لو منگو تم اُن سے اُن کی مَحَبَّت نبی کی آمد ہے نہ مانگنے میں کسر سائل و کوئی رکھنا جو چاہو مانگ لو نعمت نبی کی آمد ہے سبھی نبی صفیں باندھے کھڑے ہیں اقصیٰ میں ہوئی برائے امامت نبی کی آمد ہے اندھیری گور میں گھبراؤ مت گنہگارو لو کرلو تم بھی زیارت نبی کی آمد ہے جو خوش نصیب ہیں وہ اپنے رب کی رحمت سے پئیں گے دید کا شربت نبی کی آمد ہے گناہگارو پلٹ جاؤ آج قدموں سے کرم سے پاؤ گے جنت نبی کی آمد ہے اندھیرا گھپ تھا چکا چوند ہوگئی یک دم بفضلہ مری تُربت نبی کی آمد ہے کرم کی بارشیں ہوں گی اے مجرمو تم پر ذرا بھی آج ڈرو مت نبی کی آمد ہے فرشتگانِ عذاب اب تو چھوڑ دو مجھ کو ہوئی برائے شفاعت نبی کی آمد ہے لپٹ کے دامنِ رحمت سے قبر میں عطّار نکالو آج تو حسرت نبی کی آمد ہے