ہے جس کی ساری گفتگو وحی خدا یہ ہی تو ہیں
حق جس کے چہرے سے عیاں وہ حق نما یہی تو ہیں
سورج میں جن کی ہے چمک جن کا اجالا چاند میں
پھولوں میں جن کی ہے مہک وہ مہ لقا یہی تو ہیں
سارا جہان چھوڑ دے جس مجرمِ دید کار کو
دامن میں ان کے وہ چھپے مشکل کشا یہی تو ہیں
ان کا مبارک نام بھی ہے چین دل کا چین ہے
جو ہو مریضِ لا دوا اس کی دوا یہی تو ہیں
گن گائیں جن کے انبیا مانگیں رُسل جن کی دعا
وہ دو جہاں کے مدعٰی صلِّ علیٰ یہی تو ہیں
سجدہ شجر جنہیں کریں پتھر گواہی جن کی دیں
دکھ درد اُونٹ بھی کہیں حاجت روا یہی تو ہیں
ہے فرش کا جو بادشاہ ہے عرش جس کے زیرِ پا
سالک ملا جس سے خدا وہ باخدا یہی تو ہیں