ہے کبھی دُرُود و سلام تو، کبھی نعت لب پہ سجی رہی
غمِ ہجر میں کبھی رو پڑا، کبھی حاضری کی خوشی رہی
تری آنکھ میں جو نمی رہی، کلی تیرے دل کی کھلی رہی
کبھی دل میں ہُوک اُٹھی رہی، تو نگاہ تیری جھکی رہی
مجھے کردے دیدۂ تر عطا، غمِ عشق سوزِ جگر عطا
ہو بقیعِ پاک میں جا عطا، یہی آرزوئے دلی رہی
نہ کثیر مال کی آرزو، نہ ہی اقتدار کی جستجو
میں تو سائلِ غمِ عشق ہوں، مرے آگے ہیچ شہی رہی
جسے مل گیا غمِ مصطَفٰے، اُسے زندگی کا مزہ ملا
کبھی سیلِ اشکِ رواں ہوا، کبھی ’آہ‘ دل میں دبی رہی
یہ ہے زندگی کوئی زندگی، نہ نماز ہے نہ ہی بندگی
یہی حُبِّ جاہ کی گندگی، تری کیوں نظر میں بسی رہی