Home/Mustafa Raza Khan Qadri/Haqeeqat Aap Ki Haq Jaanta Hai

Haqeeqat Aap Ki Haq Jaanta Hai

Written by Mustafa Raza Khan Qadri

100%
حقیقت آپ کی حق جانتا ہے وہ وہم و فہم سے آقا ورا ہے کچھ ایسا آپ کو حق نے کیا ہے کہ خود وہ آپ کا طالب ہوا ہے بلند اتنا تجھے حق نے کیا ہے کہ عرشِ حق بھی تیرے زیرِ پا ہے جو اوروں کے عُلو کی انتہا ہے وہ سرکارِ عُلو کی ابتدا ہے خدا کی ذات تک تو ہی رسا ہے کسی کا بھی یہ عالی مرتبہ ہے نہ ہے تم سا نہ کوئی ہوگا آگے نہ اے آقا کوئی تم سا ہوا ہے ملائک میں رُسل میں انبیا میں کوئی عرشِ عُلا تک بھی گیا ہے تعالیٰ اللہ تیری شانِ عالی جلالتِ شان کی کیا انتہا ہے نکالی زورقِ خورشید ڈوبی اشارے سے قمر ٹکڑے کیا ہے تمہیں ہو دوسرا میں سب سے بالا بس اِک اللہ ہی تم سے سوا ہے تری صورت سے ہے حق آشکارا خدا بھاتی تیری ہر ہر ادا ہے نہیں ہو سکتا تجھ سے کوئی باہر کہ تو ہی مُبتدا و مُنتہا ہے تو ہے نورِ خدا پھر سایہ کیسا کہیں بھی نور کا سایہ پڑا ہے تو ہے ظِلِّ خدا وَاللّٰہُ بِاللہ کہیں سائے کا بھی سایہ پڑا ہے زمیں پر تیرا سایہ کیسے پڑتا ترا منسوب ارفع دائما ہے خدا کا فضلِ اعظم آپ پر ہے سکھایا سب کچھ تمہیں حق نے دیا ہے نہ منت تم پہ اُستادوں کی رکھی تمہارا اُمّی ہونا معجزہ ہے ہتھیلی کی طرح پیشِ نظر ہے ہوا جو ہوگا جو کچھ ہو رہا ہے نہ کوئی راز ہو پوشیدہ تم سے نہ کوئی راز پوشیدہ رہا ہے چھپا تم سے رہے کیونکر کوئی راز خدا بھی تو نہیں تم سے چھپا ہے مُسلط غیب پر تو کیوں نہ ہوتا نبی و مُجتبیٰ و مُرتضیٰ ہے تری مرضی رضائے حق ہے مولیٰ رضائے حق تری مرضی شہا ہے گزر تیرا ہوا ہے جو گلی سے تری خوشبو سے ہر ذرّہ بسا ہے درودیں تم پہ حق کی ہوں ہمیشہ ہماری حق سے ہر دم یہ دعا ہے درود اس پر ہو جس پر حق درودیں بہر لحظہ بہر دم بھیجتا ہے سلام اس پر جو ہے مطلوب رب کا سلام اس پر جو محبوب خدا ہے سلام اس پر یہ بحر و بر ہیں جس کے سلام اس پر جو شاہِ دوسرا ہے جس آقا کے ملائک ہیں سلامی جو شاہِ کرسی و عرشِ علا ہے خدا کی سلطنت کا جو ہے دولہا سلام اس پر جو رحمت کا بنا ہے جسے سنگ و شجر تسلیم کرتے سلام اس پر جو ایسا بادشاہ ہے سلام اس پر جو اوّل ہے رُسل کا سلام اس پر جو خَتمُ الانبیا ہے سلامِ اوّل کا اوّل پر ہمیشہ سلام باقی ہو جب تک بقا ہے سلامِ آخِر کا آخِر پر دائم نہ بس عالَم ہی تک جس کو فنا ہے سلامِ ظاہر و باطن ہو اس پر جو ظاہر ہو کے باطن ہو گیا ہے سلام اے جانِ رحمت کانِ نعمت سلام اے کہ وہ شانِ حق نما ہے رہے جلوہ تمہارا دل کے اندر مرے پیارے یہ دل کا مدعا ہے رہے پیشِ نظر وہ روئے انور ترستی آنکھوں کی یہ التجا ہے شرابِ دید سے دل شاد کیجے ہمارے درد کی یہ ہی دوا ہے یہیں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ یہیں شاہ و گدا سب کا ٹھیا ہے دمِ آخِر تو آجا جانِ عیسیٰ ہیں ساقط نبضیں گھنگر بولتا ہے دمِ آخِر چلے آؤ خدا را دکھا دو مرنے والا جی رہا ہے ترے قدموں میں جس کو موت آئے حیاتِ جاوداں اس کی قضا ہے ہٹا دیجے رُخِ انور سے گیسو اندھیرا قبر کا کالی بلا ہے سُنگھا دیجے ہمیں وہ زُلفِ مشکلیں صفت میں جس کی وَاللَّيْلِ سَجىٰ ہے دکھا دیجے شہا پُرنور چہرہ صفت میں جس کی وَالشَّمْسِ اَورُضحیٰ ہے ترے قربان اے زُلفِ مُعَنبَر ہمارے سر ہجومِ بد بلا ہے مرے سر سے بلائیں دور فرما بلاؤں میں یہ بندہ مبتلا ہے نَحیف و ناتواں سرکار ہم ہیں بہت صبر آزما یہ ابتلا ہے پریشاں ہوں پریشانی کرو دُور بلاؤں میں یہ بندہ مبتلا ہے نہ کیجے دُور اپنے در سے ہم کو پڑا رہنے دو جو در پر پڑا ہے شہید کربلا کا صدقہ دے دے تو شاہا دافعِ کرب و بلا ہے پریشاں ہوں پریشانی کرو دُور پریشاں سا پریشاں دل مرا ہے پریشانی وطن کی یاد کر کے پریشاں دل ابھی سے ہورہا ہے پریشانی ہے گوناگوں وطن میں پریشاں ان کو فرما دو تو کیا ہے یہاں کیوں کر نہ دل آرام پائے جہاں آرامِ جاں و دِل مرا ہے میں گھر جاؤں تو ان میں گھر نہ جاؤں یہاں بس یہ تفکّر ہو رہا ہے رموزِ مصلحت سرکار جانیں اگر واپس ہی فرمانا بھلا ہے مگر اتنی گزارش کی اجازت یہ بندہ دست بستہ چاہتا ہے ہمیں پھر اپنے قدموں میں بلانا یہی مولیٰ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ پھر سرکار کے قدموں میں لائے یہیں پر مرنے جینے میں مزا ہے قیامت ہے قیامت ہے قیامت جدھر دیکھو اُدھر محشر بپا ہے زمیں تابنے کی ہے سورج سروں پر تپش سے بھیجا سر میں کھولتا ہے ذرا سا بھی نہیں سایہ کہیں پر عرق اتنا بہا دریا بہا ہے زبانیں سوکھی ہیں کانٹے جمے ہیں عَطش سے حال اَبتر ہو رہا ہے کلیجے مُنہ کو آئے دَم گھٹے ہیں اُلٹ کر دل گلے میں آ رہا ہے سراپا کوئی تو غرقِ عرق ہے کسی کے مُنہ تک آ کر رہ گیا ہے تڑپتا ہے کوئی بے چین ہو کر کوئی گر کر زمیں پر لوٹتا ہے مثالِ ماہیِ بے آب کوئی کوئی جل کر کباب سوکھتا ہے عَجَب ہی کس پُرسی کا ہے عالم جسے دیکھو بھڑکتا بھاگتا ہے زَن و شو میں نہیں باقی تعارف نہ بھائی بھائی کو پہچانتا ہے نہ کوئی آج حامی ہے نہ یاور کہیں کس سے کہ ایسا ماجرا ہے بُرے احوال ہیں اس روز اُف اُف بہت احوالِ بد کا سامنا ہے کوئی ہانپے کوئی کانپے کراہے کوئی روتا کوئی چلا رہا ہے ہے دار و گیر کا ہنگامہ برپا بہت سخت آفتوں کا سامنا ہے رُسل بھی نَفسی نَفسی کہہ رہے ہیں حمایت کا کسے اب آسرا ہے بندھے گی آس اپنی بعد ہر یاس اسی سے جو ہمارا آسرا ہے اسی کے پاس سب پہنچیں گے آخر وہ جس کا نامِ مُصطفیٰ ہے شفاعت کا اسی کے سر ہے سہرا وہی اس بزم کا دُلہا بنا ہے چلو اے عاصیو کیوں گڑھ رہے ہو وہ محبوبِ خدا جلوہ نما ہے مَلول اے غم زدہ تم کس لیے ہو وہ پیارا مُصطفیٰ جب غم زدا ہے سنیں گے سننے والے اِذْہَبُوْا کے زبانِ پاک پر اِنِّی لَہَا ہے مظالم کرلیں جتنے ہوں یہ ظالم نہ کر غم نوریؔ اپنا بھی خدا ہے