ہوا جاتا ہے دشمن سب زمانہ یا رسول اللہ
سناؤں اب کسے غم کا فسانہ یا رسول اللہ
مجھے چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیر رکھا ہے
بچانا یا رسول اللہ بچانا یا رسول اللہ
جو اپنے تھے وہی بیگانے ہو کر اب ستاتے ہیں
کرم للہ! یا شاہِ زمانہ! یا رسول اللہ
بھنور میں پھنس چکی ہے ناؤ آقا! ہائے کیا ہوگا!
شہاہ! جلدی سے پار آکر لگا دو یا رسول اللہ
غم و آلام نے ہر سمت سے آقا جکڑ ڈالا
پئے غوثِ و رضا آ کر چھڑانا یا رسول اللہ
شہاً! گلزارِ سنّت پر خُزاں نے کر دیا حملہ
بہاریں سنّتوں کی پھر دکھانا یا رسول اللہ
غمِ دُنیا میں کیوں روئیں ہمیں کر دو نصیب آقا
تمہارے غم میں ہی آنسو بہانا یا رسول اللہ
ڈُبایا بلکہ مارا بھی مجھے یا مصطفیٰ جس نے
اُسے بھی اپنے سینے سے لگانا یا رسول اللہ
نہیں عطارؔ قابلِ امتحاں کے سرورِ عالم
بہر صورت تمہیں اِس کو نبھانا یا رسول اللہ