Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Ho Baghdad ka phir safar Ghous-e-Azam

Ho Baghdad ka phir safar Ghous-e-Azam

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
ہو بغداد کا پھر سفر غوثِ اعظم مُہیا وسائل وہ کر غوثِ اعظم شَہَنشاہِ جِن و بَشَر غوثِ اعظم ہو ولیوں کے بھی تاج وَر غوثِ اعظم میں پہلے بھی بغداد حاضر ہوا تھا اجازت دو بارِ دگر غوثِ اعظم میں گلیوں میں بستر جما دوں پھر آکر دو بغداد میں مجھ کو گھر غوثِ اعظم دکھا دو مزارِ منوّر کے جلوے دکھا دو پھر اپنا نگر غوثِ اعظم خدا و نبی کی جو الفت میں روئے عطا کر دو وہ چشمِ تر غوثِ اعظم عطا ہو مجھے اپنے اللہ کا ڈر دو عشقِ شہِ بحر و بر غوثِ اعظم مرے بیٹھے مرشد مجھے پھر شرف دے یہ سر ہو ترا سنگِ در غوثِ اعظم ملا سلسلہ قادری فضلِ رب سے میں ہوں کس قدر بختیور غوثِ اعظم ہمیشہ ترا عشق بے چین رکھے عطا ہو وہ سوزِ جگر غوثِ اعظم مجھے اپنی الفت کی خیرات دیدو مری خالی جھولی دو بھر غوثِ اعظم مری ڈوبتی ناؤ کو دو سہارا ذرا جلد آؤ اِدھر غوثِ اعظم یہاں بھی سہارا وہاں بھی سہارا اِدھر غوثِ اعظم اُدھر غوثِ اعظم مجھے دشمنوں نے کہیں کا نہ چھوڑا ہے فریاد! ٹوٹی کمر غوثِ اعظم عَدُو کے مقابل وہ ہمت عطا ہو رہوں کاش! سینہ سِپَر غوثِ اعظم مدد اَلْمَدَد مرشد ورنہ دشمن چلا جان سے مار کر غوثِ اعظم زَباں پر رہے میری یا پیر و مرشد ترا ذکر آٹھوں پہر غوثِ اعظم مَراحِب دنیا سے پیچھا چھڑا دے عطا اپنی الفت تو کر غوثِ اعظم شہا نفسِ امّارہ مغلوب ہو اب ہو شیطان کا دُور شَر غوثِ اعظم ہے عصیاں کے بیمار کا دم لبوں پر خدارا لو جلدی خبر غوثِ اعظم تمہیں میرے حالات کی سب خبر ہے پریشاں ہوں میں کس قدر غوثِ اعظم شہا! کاش قفلِ مدینہ لگا لوں زباں پر بھی اور آنکھ پر غوثِ اعظم بیاں سن کے توبہ گنہگار کر لیں زباں میں وہ دید و اثر غوثِ اعظم میں بغداد کا کوئی سگ ہوتا اور کاش! مجھے رکھتے تم باندھ کر غوثِ اعظم شہیدِ مدینہ ہو عطّارِ عاصی مُراد اس کی یہ آئے بَر غوثِ اعظم