ہم گوہیں برے قسمت ہے بھلی جب پشت پناہ ان سا پایا
وہ جس کو ملے دن اس کے پھرے، جو نہیں تو خدا ہی پایا
معراج کی شب ہمراہ ہیں سب سدرہ آیا کوئی نہ رہا
سدرہ سے بڑھے جبریل رہے تنہا ہیں جو عرشِ خدا پایا
جبریل کی آنکھوں سے پوچھو اے چشمِ حقیقت ہیں کہو تو
انہیں فرش پہ تو نے کیا دیکھا، سدرہ سے بڑھے تو کیا پایا
وہ جس کو ملے، ایمان ملا، ایمان تو کیا رحمن ملا
قرآن بھی جب ہی ہاتھ آیا جب دل نے وہ نورِ ہدیٰ پایا
بے مثلِ حق کے مظہر ہو پھر مثل تمہارا کیوں کر ہو
نہیں کوئی تمہارا ہم پلہ نہ تیرا کوئی ہم پایہ پایا
نہیں جلوہ میں ان کے یکتائی کوئی آقا کہے کوئی بھائی
مومن سمجھا بندہ پرور اندھوں نے محض بندہ پایا
ارشاد ہوا سورج لوٹا سے پایا جو اشارہ چاند چرا
بادل رم جھم رم جھم برسا جب حکمِ حبیبِ خدا پایا
تم ہی تو ہو وحدت تم ہی تو ہو کثرت کے مصدر
ہے قبلۂ حاجات آپ کا در کعبہ نے تمہیں کعبہ پایا
ستارے قربان ترے دنیا میں تو میرے عیب ڈھکے
محشر میں بھی عزت رکھ لینا تم سا نہ کوئی اپنا پایا
صرف ایک پیالہ پانی ہے اور پینے والے چودہ سو
اس وقت ان کی ہر انگلی سے پانی کا رواں چشمہ پایا
جابر کے گھر تھوڑے جو تھے مہمان کیا سارا لشکر
سب سیر ہوئے لیکن کھانا جو پہلے تھا ویسا پایا
اب تک تو کھلائے لقمۂ تراب چھوڑ کے درہم جائیں کدھر
پرسش ہے جہاں ناکاروں کی وہ آپ کا دروازہ پایا
دنیا سے بچالو سالک کو کام اپنی رضا کے اس سے لو
اک یہ ہی تمنا باقی ہے اب تک تو جو کچھ مانگا پایا