ہم نے تقصیر کی عادت کرلی
آپ اپنے پہ قیامت کرلی
میں چلا ہی تھا مجھے روک لیا
میرے اللہ نے رحمت کرلی
ذکرِ شہ سُن کے ہوئے بزم میں محو
ہم نے جلوت میں بھی خلوت کرلی
نارِ دوزخ سے بچایا مجھ کو
میرے پیارے بڑی رحمت کرلی
بال بیکا نہ ہوا پھر اس کا
آپ نے جس کی حمایت کرلی
رکھ دیا سر قدمِ جاناں پر
اپنے بچنے کی یہ صورت کرلی
نعمتیں ہم کو کھلائیں اور آپ
جو کی روٹی پہ قناعت کرلی
اس سے فردوس کی صورت پوچھو
جس نے طیبہ کی زیارت کرلی
شانِ رحمت کے تصدق جاؤں
مجھ سے عاصی کی حمایت کرلی
فاقہ مستوں کو شکم سیر کیا
آپ فاقہ پہ قناعت کرلی
اے حسن کام کا کچھ کام کیا
یا یوں ہی ختم پہ رخصت کرلی
لطف کی بارش ہے سب شاداب ہیں
ابر جودِ شاہِ عالمگیر ہے
مجرمو اُن کی قدم پر لوٹ جاؤ
بس رہائی کی یہی تدبیر ہے
یادِ مشکل کشائی کیجیے
بندۂ در بے دل و دلگیر ہے
وہ سراپا لطف ہیں شانِ خدا
وہ سراپا نور کی تصویر ہے
کان ہیں کانِ کرم جانِ کرم
آنکھ ہے یا چشمۂ تنویر ہے
جانے والے چل دیئے ہم رہ گئے
اپنی اپنی اے حسن تقدیر ہے