Home/Allama Hasan Raza Khan/Jaate Hain Su-e-Madina Ghar Se Hum

جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم مار ڈالے بے قراری شوق کی خوش تو جب ہوں اس دلِ مُضطر سے ہم بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ ہے یہی اب کہاں جائیں تمہارے در سے ہم تشنگیِ حشر سے کچھ غم نہیں ہیں غلامانِ شہِ کوثر سے ہم اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیع ڈر چکے بس فتنۂ محشر سے ہم نقشِ پا سے جو ہوا ہے سرفراز دل بدل ڈالیں گے اُس پتھر سے ہم گردنِ تسلیم خم کرنے کے ساتھ پھینکتے ہیں بارِ عصیاں سر سے ہم گور کی شب تار ہے پر خوف کیا لو لگائے ہیں رُخِ اَنور سے ہم دیکھ لینا سب مرادیں مل گئیں جب لپٹ کر وئے اُن کے در سے ہم کیا بندھا ہم کو خدا جانے خیال آنکھیں ملتے ہیں جو ہر پتھر سے ہم جانے والے چل دیئے کب کے حسن پھر رہے ہیں ایک بس مُضطر سے ہم وہ اور ہیں جن کو کہئے محتاج ہم تو ہیں گدائے غوثِ اعظم ہیں جانبِ نالۂ غریباں گوشِ شنوائے غوثِ اعظم کیوں ہم کو ستائے نارِ دوزخ کیوں رد ہو دعائے غوثِ اعظم بیگانے بھی ہو گئے یگانے دل کش ہے ادائے غوثِ اعظم آنکھوں میں ہے نور کی تجلّی پھیلی ہے ضیائے غوثِ اعظم جو دَم میں غنی کرے گدا کو وہ کیا ہے عطائے غوثِ اعظم کیوں حشر کے دن ہو فاش پردہ ہیں زیرِ قبائے غوثِ اعظم آئینہ روئے خوب رویاں نقشِ کفِ پائے غوثِ اعظم اے دل نہ ڈر ان بلاؤں سے اب وہ آئی صدائے غوثِ اعظم اے غم جو ستائے اب تو جانوں لے دیکھ وہ آئے غوثِ اعظم تارِ نفسِ ملائکہ ہے ہر تارِ قبائے غوثِ اعظم سب کھول دے عُقدہ ہائے مشکل اے ناخنِ پائے غوثِ اعظم کیا اُن کی ثنا لکھوں حُسن میں جاں باد فدائے غوثِ اعظم