جدھر دیکھوں مدینے کا حرم ہو کرم ایسا شہنشاہِ اُمم ہو
کہاں سرکار دولت مانگتا ہوں مدینے کا عطا مجھ کو تو غم ہو
جب آقا آخری وقت آئے میرا مرا سر ہو ترا بابِ کرم ہو
کرے پرواز روحِ مضطرب یوں ترے دربار میں سر میرا خم ہو
بقیعِ پاک کی للہ اب تو اجازت مرحمتِ شاہِ حرم ہو
جو بیٹھے مصطفیٰ کے غم میں روئے نہ کیوں میری نظر میں محترم ہو