جس طرف دیکھئے گلشن میں بہار آئی ہے دل مگر دُشتِ مدینہ کا تمنائی ہے
خوشنما پھول گلستاں میں کھلے ہیں لیکن میرا دل خارِ مدینہ ہی کا شیدائی ہے
مُصطَفٰے کی یہ عنایت ہے کہ میرے دل میں گُنبَدِ سبز کی تصویر اُتر آئی ہے
جب کبھی جس نے بھی پائی ہے جہاں کی نعمت آپ کے دستِ کرم ہی سے شفا پائی ہے
آہ! مجبور پہ رنج و غم کی چار جانب سے شہا! کالی گھٹا چھائی ہے
دے دے مولا! غمِ سلطانِ مدینہ دیدے لب پہ رہ رہ کے یہی ایک دُعا آئی ہے
جب تڑپ کر دلِ غمگیں نے پکارا آقا! فوراً اِمداد شہا آپ نے فرمائی ہے
کر دو سیراب دلِ تشنہ کو اب تو ساقی! شربتِ دید کا مدت سے تمنائی ہے
گھپ اندھیرا تھا گناہوں کا میں صدقے جاؤں لَکھ خود آ کے مری ٹُور سے چمکائی ہے
نزع میں، قبر میں، میزانِ عمل اور پُل پر ہر جگہ آپ کی نسبت ہی تو کام آئی ہے
سُنّتیں شاہِ مدینہ کی تُو اپنائے جا دونوں عالم کی فلاح اس میں مرے بھائی ہے
مال و دولت کی ہوس دِل سے مٹا دے یارب سوزِ سرکار کا عطّار تمنائی ہے