حضور حشر میں بگڑی گنہگاروں کی
بنے گی کیسے بغیر آپ کے بنائے ہوئے
سفید نامۂ اعمال کیوں نہ ہوں اُن کے
ترے کرم کی جو بارش میں ہیں نہائے ہوئے
ندا یہ حشر میں ہوگی کہ دیکھ لیں عشاق
نقاب وہ رُخِ انور سے ہیں اُٹھائے ہوئے
ہے منکروں کے لیے روزِ حشر نارِ جحیم
قصورِ خُلد غلاموں پہ ہیں لٹائے ہوئے
مدد کرو کہ تمہارے غلام کے پیچھے
ہے دشمنوں کا ہجوم آستیں چڑھائے ہوئے
جمیلِ قادری نعتِ نبی سنائیں گے
خدا کے سامنے جائیں گے جب بلائے ہوئے
جمیلِ قادری چمکے نہ کیوں کلام ترا
کہ تو جنابِ رضا سے ہے فیض پائے ہوئے