جو بنوں پر ہے بہار چمن آرائی دوست
خُلد کا نام نہ لے بُلبلِ شیدائی دوست
تھک کے بیٹھے تو درِ دِل پہ تمنائی دوست
کون سے گھر کا اُجالا نہیں زیبائی دوست
عرصۂ حشر کجا موقفِ محمود کجا
سازِ ہنگاموں سے رکھتی نہیں یکتائی دوست
مہر کس منھ سے جلو داریِ جاناں کرتا
سایہ کے نام سے بیزار ہے یکتائی دوست
مرنے والوں کو یہاں ملتی ہے عمرِ جاوید
زندہ چھوڑے گی کسی کو نہ مسیحائی دوست
ان کو یکتا کیا اور خلق بنائی یعنی
انجمن کر کے تماشا کریں تنہائی دوست
کعبہ و عرش میں کہرام ہے ناکامی کا
آہ کس بزم میں ہے جلوۂ یکتائی دوست
حسن بے پردہ کے پردے نے مٹا رکھا ہے
ڈھونڈنے جائیں کہاں جلوۂ ہرجائی دوست
شوق روکے نہ رُکے پاؤں اٹھائے نہ اُٹھے
کیسی مشکل میں ہیں اللہ تمنائی دوست
شرم سے جھکتی ہے محراب کہ ساجد ہیں حضور
سجدہ کرواتی ہے کعبہ سے جبیں سائی دوست
تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا
سارے داراؤں کی دارا ہوئی دارائی دوست
طور پر کوئی، کوئی چرخ پہ یہ عرش سے پار
سارے بالاؤں پہ بالا رہی بالائی دوست
اَنْتَ فِیہِمْ نے عَدُو کو بھی لیا دامن میں
عیشِ جاوید مبارک تجھے شیدائی دوست
رنجِ اعدا کا رضا چارہ ہی کیا ہے جب انہیں
آپ گستاخ رکھے حلم و شکیبائی دوست
طوبٰی میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
مانگوں نعتِ نبی لکھنے کو روحِ قُدس سے ایسی شاخ
مولیٰ گلبن، رحمتِ زہرا، سِبطین اُس کی کلیاں پھول
صِدّیق و فاروق و عثمان، حیدر ہر اِک اُس کی شاخ
شاخِ قامتِ شہ میں زلف و رُخسار و لب ہیں
سُنبُل، نرگس، گُل، پنکھڑیاں قُدرت کی کیا پھولی شاخ
اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دے
جس سے نخلِ دِل میں ہو پیدا پیارے تیری وِلا کی شاخ
یادِ رُخ میں آہیں کر کے بن میں میں رویا آئی بہار
جُھومیں نسیمیں، نیساں برسا، کلیاں چٹکیں، مہکی شاخ
ظاہر و باطن اوّل و آخر زیبِ فروع و زِینِ اُصول
باغِ رسالت میں ہے تُو ہی گل، غنچہ، جڑ، پتی شاخ
آلِ احمد خُذ بِیَدِی یا سَیِّدِ حمزہ کُن مَدَدی
وقتِ خزانِ عمرِ رضا ہو برگِ ہدیٰ سے نہ عاری شاخ