(نزع کی سختیوں، قبر کی ہولناکیوں، حشر کی دشواریوں اور جہنم کی خوفناک وادیوں کا تصور باندھ کر خوفِ خدا عزوجل سے لرزتے ہوئے اشکبار آنکھوں سے اس کلام کو پڑھئے)
کاش کہ نہ دنیا میں پیدا میں ہوا ہوتا
قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا
آہ! سلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے
کاش کہ مری ماں نے ہی نہیں جنا ہوتا
میں نہ پھنس گیا ہوتا آ کے صورتِ انساں
کاش! میں مدینے کا اونٹ بن گیا ہوتا
اونٹ بن گیا ہوتا اور عیدِ قرباں میں
کاش! دستِ آقا سے نحر ہو گیا ہوتا
کاش! میں مدینے کا کوئی دُنبہ ہوتا یا
سینگ والا چِشکہرا مینڈھا بن گیا ہوتا
تار بن گیا ہوتا مُرشدی کے گُرتے کا
مُرشدی کے سینے کا بال بن گیا ہوتا
دو جہاں کی فِکروں سے یوں نجات مل جاتی
میں مدینے کا سچ مُچ کتا بن گیا ہوتا
کاش! ایسا ہو جاتا خاکِ بن کے طیبہ کی
مصطفٰے کے قدموں سے میں لپٹ گیا ہوتا
پھول بن گیا ہوتا گلشنِ مدینہ کا
کاش! اُن کے صَحرا کا خار بن گیا ہوتا
میں بجائے انساں کے کوئی پودا ہوتا یا
نخل بن کے طیبہ کے باغ میں کھڑا ہوتا
گلشنِ مدینہ کا کاش! ہوتا میں سبزہ
یا میں بن کے اک تنکا ہی وہاں پڑا ہوتا
مرغِ زارِ طیبہ کا کاش! ہوتا پروانہ
گردِ شمع پھر پھر کر کاش! جل گیا ہوتا
کاش! خَر یا خَچَر یا گھوڑا بن کر آتا اور
آپ نے بھی گھوڑنے سے باندھ کر رکھا ہوتا
جاں گئی کی تکلیفیں ذِبح سے ہیں بڑھ کر کاش!
مرغ بن کے طیبہ میں ذِبح ہو گیا ہوتا
آہ! کثرتِ عِصیاں ہائے! خوفِ دوزخ کا
کاش! میں نہ دنیا کا اک بشر بنا ہوتا
شور اُٹھا یہ مَحشر میں خُلد میں گیا عطارؔ
گر نہ وہ بچاتے تو نار میں گیا ہوتا