کروں کیا حالِ دل اظہار یاغوث
کہ تم ہو عالِمُ الاشرار یاغوث
نکالو بحرِ غم سے میری کشتی
ہے حائل بیچ میں مَنجدھار یاغوث
سوا تیرے کہوں کس سے غم اپنا
نہیں میرا کوئی غمخوار یاغوث
مَدَد کا وقت ہے اِمداد کیجئے
مری حالت ہوئی ہے زار یاغوث
دلِ تاریک پر فرما دے صیقل
مرا سینہ ہو پُرانوار یاغوث
عطا کر صحتِ کامل اسے بھی
یہ بندہ ہے ترا بیمار یاغوث
بُلا بغداد میں للہ آقا
دکھا اپنا مجھے دربار یاغوث