کرتے ہیں جن و بشر ہر وقت چرچا غوث کا
بج رہا ہے چار سو عالم میں ڈنکا غوث کا
نارِ دوزخ سے بچائے گا سہارا غوث کا
لے چلے گا خلد میں ادنیٰ اشارہ غوث کا
نزع میں مرقد میں محشر میں مدد فرمائیں گے
ہو چکا ہے عہد پہلے ہی ہمارا غوث کا
خالقِ کون و مکاں نے پہلے ہی روزِ ازل
لکھ دیا ہے میری پیشانی پہ بندہ غوث کا
کیا عجب بے پوچھے مجھ کو چھوڑ دیں منکر نکیر
دیکھ کر میرے کفن پر نام لکھا غوث کا
نزع میں مرقد میں محشر میں کہیں بھی یا خدا
ہاتھ سے چھوٹے نہ دامنِ معلّٰی غوث کا