خوشیاں مناؤ بھائیو! سرکار آگئے سرکار آگئے، شہِ ابرار آگئے
سب جھوم جھوم کر کہو سرکار آگئے دونوں جہاں کے مالک و مختار آگئے
وہ غمزدوں کے حامی و غم خوار آگئے دکھیوں کے بے کسوں کے مددگار آگئے
وہ مسکراتے خُلق کے سردار آگئے چمکاتے اپنا چہرہ چمکدار آگئے
ہے آج جشنِ آمدِ سرکار چار سُو دنیا میں آج نبیوں کے سالار آگئے
خوشیوں کے لمحے آگئے دیوانے جھوم اُٹھے عیدوں کی عید آگئی سرکار آگئے
دائی حلیمہ میں بڑی تقدیر پر نثار گودی میں تیری احمدِ مختار آگئے
پڑھتے دُرود سارے ہی تعظیم کو اُٹھو اُٹھ کر پڑھو سلام کہ سرکار آگئے
دیوانو! آؤ آمنہ بی بی کے گھر چلیں صُبحِ بہاراں ہوگئی سرکار آگئے
لہراؤ سبز پرچم اے اسلامی بھائیو! گھر گھر چراغاں کرو کہ سرکار آگئے
ہوتے ہی پیدا، کرتے ہیں اُمت کو یاد آپ اُمت کی مغفرت کے طلب گار آگئے
رکھو گناہ گارو نہ اب خوفِ حشر کا اے مجرمو! تمہارے طرف دار آگئے
اے غمزدہ! تمہاری تو بس عید ہوگئی آفت زدہ! تمہارے مددگار آگئے
یارب! کرم ہو اَز پئےِ میلادِ مصطفٰے بخشش کی آس لے کے گنہگار آگئے
صدقہ حضور! آپ کے میلادِ پاک کا دیدو شفا گناہوں کے بیمار آگئے
صدقہ بنے گا آمنہ بی بی کے گھر میں آج کشکول لے کے دوڑتے نادار آگئے
پُھولے نہیں سماتے ہیں عطار آج تو دنیا میں آج حامیِ عطار آگئے