کچھ روز پہلے تو میں، مدینے میں تھا اب آہ!
آکر وطن میں پھنس گیا پھر کاروبار میں
ہجرِ مدینہ میں جو تڑپتے ہیں یا نبی
ان کو بلائیے شہا! اپنے دیار میں
کر مغفرت مری تری رحمت کے سامنے
میرے گناہ یاخدا ہیں کس شمار میں
فضلِ خدا سے مالکِ کون و مکاں ہیں آپ
دونوں جہاں آپ کے ہیں اختیار میں
فیشن کو چھوڑو بھائیو! اپناؤ سنّتیں
کب تک جیو گے عالمِ ناپائیدار میں
وہ دینِ حق کے واسطے طائف میں زخم کھائیں
افسوس ہم پھنسے رہیں بس کاروبار میں
بدکار و نابکار کا ایماں یانبی
محفوظ رکھنا آپ کے ہے اختیار میں
کرتے رہو یہ حق سے دعا میرے بھائیو!
عطّار کو دے موت نبی کے دیار میں
سارا اندھیرا دور سماں ہوگا نور نور
عطّار جب آئیں گے تیرے مزار میں